24 ستمبر 2018
تازہ ترین
خواجہ سرائوں کو  عدالت عظمیٰ میں ملازمت دینے کا فیصلہ

 سپریم کورٹ نے خواجہ سرائوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے انہیں عدالت عظمیٰ میں ملازمت دینے کا فیصلہ کیا ہے ، چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے خواجہ سرائوں کے شناختی کارڈز سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا تمام درخواست گزاروں کے شناحتی کارڈز جاری ہو گئے ہیں، جس پر نیب حکام نے بتایا کہ ہم شناختی کارڈز جاری کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں سہولت مہم بھی جاری ہے، نادرا نے 342 خواجہ سراوں کو شناختی کارڈ جاری کئے ہیں لیکن وہ شناختی کارڈز بنوانے کے لیے نہیں آتے۔ سیکرٹری لاکمیشن نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ سرائوں کو قتل بھی کیا گیا ہے، 2015 سے اب تک 500 خواجہ سرا قتل ہوئے ہیں، خواجہ سرائوں کے حوالے سے جو گائیڈ لائن بنائی اس پر وفاق نے تاحال جواب نہیں دیا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح کے واقعات بدنامی کا سبب بنتے ہیں، یہ اعداد و شمار ایسے نہیں جن کا ذکر عدالتی حکم نامہ میں کیا جائے۔ عدالت نے دو خواجہ سرائوں کو سپریم کورٹ میں ملازمت دینے کا فیصلہ بھی کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ سرائوں کے معاشرتی مسائل حل ہونے چاہئیں، ہم تو خواجہ سرائوں کو قومی دھارے میں لارہے ہیں۔ چیف جسٹس نے خواجہ سرائوں کے خلاف ویب سائٹس کا بھی نوٹس لے لیا، انہوں نے استفسار کیا کہ ایک ویب سائیٹ کے ذریعے غیر ضروری معلومات اور افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، ایسا مواد ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ یہ کون سی این جی او ہے جو یہ پیج بناکر بدنام کررہی ہے۔ خواجہ سرائوں کے حقوق کے حوالے سے سفارشات دو ہفتوں میں طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟