22 اکتوبر 2019
تازہ ترین
  خطے کا امن افغانستان میں  امن سے مشروط ہے،صدر ممنون حسین

  خطے کا امن افغانستان میں  امن سے مشروط ہے،صدر ممنون حسین

صدر مملکت ممنون حسین  نے کہا ہے کہ  خطے کا امن افغانستان میں  امن سے مشروط ہے بھارت اور افغانستان کے ساتھ خوشگوار  تعلقات کے متمنی  ہیں وہ امن کوششوں میں  ہمارا ساتھ دیں تاکہ دہشتگردی کا سدباب   ہوسکے ۔ ان خیالات کا اظہار  انہوں نے  اسلام آباد میں کیڈٹ  کالج حسن ابدال  کے طلبہ  سے خطاب میں کیا ۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ  قومی ترقی کیلئے دہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے لیکن  افغانستان میں امن  کے قیام کے بغیر  پاکستان میں  اس کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا   اس لئے پاکستان سے  پرخلوص   تعاون چاہتے ہیں  لیکن ہماری امن  کوششوں کو ثمر آور بنانے  کیلئے افغانستان  کی حکومت غلط فہمیاں   پیدا کرنے والے عناصر کو مسترد کرے تاکہ دونوں ممالک کے عوام خوشگوار  اور دوستانہ  تعلقات کے ثمرات  سے مستفید ہوسکیں  صدر مملکت نے ک ہا کہ پاکستان ترقی کے سفر میں تمام ہمسائیہ ممالک کو شریک کرنا چاہتا ہے  اس لئے ہمسائیہ ملک اور خطے  میں امن وامان کے حالات کے پیش نظر بھارت  کےساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے  کے خواہشمند ہیں لیکن اکیلے ہماری  کوششوں سے خطے  میں امن وامان کی صورتحال  میں بہتری نہیں آسکتی  اس لئے بھارت کو بھی ہماری طرف تعاون  اور دوستی کا ہاتھ  بڑھانا ہوگا   تاکہ خوشگوار تعلقات  کے باعث ایک دوسرے کی ترقی کے سفر سے   عوام مستفید  ہوسکیں  انہوں نے کہا کہ  آزادی سب  کا بنیادی حق ہے  اور کشمیری عوام کو بھی آزادی کے ساتھ  اپنی زندگی گزارنے کا بنیادی حق حاصل ہے  کشمیر کی نئی نسل نے بھارتی  جبر کے باوجود تحریک  آزادی میں نئی روح پھونک دی ہے  جس کی ہم پرزور حمایت کرتے ہیں  اور چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام  متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو کیونکہ اقوام متحدہ   کی قرارداد پر عمل  کئے بغیر مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاسکتا  اور جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تب تک پاک بھارت  تعلقات میں بہتری نہیں آسکتی  انہوں نے کہا کہ  طلبائ  ملک کے معمار ہیں  اور ہمیں امید ہے کہ  وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے  نبھا کر ملک  وقوم  کی ترقی اور خدمت  میں اہم کردار ادا کرینگے ۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟