15 نومبر 2018
حکومت کا  گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ

اسلام آباد ٟ مانیٹرنگ ڈیسکٞ  اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فوری طور پر گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی ای سی سی  کا اجلاس ہوا جس میں گیس کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق فیصلہ کیا گیا اور کمیٹی نے فوری طور پر گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے قیمتوں میں اضافے کے لیے گائیڈ لائنز طے کرلی ہیں تاہم گیس کی قیمتوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں کھاد فیکڑیوں کو 50 فیصد مقامی گیس اور 50 فیصد ایل این جی مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایل این جی کا 50 فیصد بل کھاد کمپنیاں ادا کریں گی جب کہ 50 فیصد حکومت ادا کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام کھاد فیکڑیاں پوری صلاحیت کے مطابق کھاد پیدا کریں گی جب کہ یوریا کھاد پوری کرنے کے لیے کھاد درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اجلاس کے مطابق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سابق حکومت گیس سیکٹر میں 156 ارب روپےکا سالانہ خسارہ چھوڑ کر گئی، ہمیں ہر سال 156 ارب روپے سالانہ خسارے کا سامنا ہے، شاہد خاقان عباسی بہتر بتا سکتے ہیں کہ گیس سیکٹر کی حالت تباہ کیوں ہے، پاکستان میں گیس کا شعبہ تباہ ہورہا ہے، ای سی سی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جارہا، سبسڈی کے نظام پر بحث ہوگی اس کے بعد وزیراعظم حتمی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے سے غریب ترین آدمی متاثر نہ ہو، امیر ترین آدمی اپنا حصہ ڈالے تاکہ ہم خسارے کو کم کر سکے، گیس چوری میں بھی پچھلے پانچ سالوں میں اضافہ ہوا، 40 فیصد لوگ پائپ لائن گیس اور 60 فیصد سلنڈر سے استفادہ کرتے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، ایسا نظام وضع کیا گیا ہے کہ کھاد کے مقامی پلانٹس کو بھی گیس فراہم کی جائے، کسانوں کو سہولت کے لیے ایک بہت بڑی سبسڈی دی جائے گی، وزیراعظم نے کہا ہے کہ کسانوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟