17 نومبر 2018
حکومت کا وفاقی بجٹ میں تبدیلی کا فیصلہ

اقتصادی مشاورتی کونسل میں شامل نجی سیکٹر سے تعلق رکھنے والے اراکین کے مطالبے پر وفاقی حکومت نے معیشت کی بہتری اور بجٹ برائے مالی سال 19õ2018 کو حقیقت سے قریب تر بنانے کے لئے اس میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق نو تشکیل شدہ اقتصادی مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہوا ،جس میں 3 بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات، ویب لنک میں آنے والی خرابی کے سبب شامل نہ ہوسکے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ آمدنی اور اخراجات کے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے بجٹ برائے سال 19õ2018 میں کئی اہم تبدیلیاں کی جائیں گی، تاہم بیل آئوٹ پیکج کے لئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے رجوع کرنے کے سلسلے میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ اجلاس میں قرضوں، مالیاتی مشکلات اور کرنٹ اکائونٹ خسارے کے حوالے سے 3 ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ، جو آئندہ ہفتے وزیر خزانہ اسد عمر سے علیحدہ، علیحدہ ملاقات کریں گے، بعد ازاں اس ضمن میں وزیر اعظم کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں اکثریت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ابتدائی 2 ماہ میں سیاسی نتائج کی پرواہ کئے بغیر سیاسی اور سماجی وسائل کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سخت فیصلے کرے۔ اراکین  نے کہا کہ اگر حکومت نے اہم فیصلے کرنے میں تاخیر کی تو صورتحال دن بدن مشکل ہوتی جائے گی۔ کچھ اراکین کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ بڑے پیمانے پر دیئے جانے والے ٹیکس استثنیٰ پر نظر ثانی کی جائے، خاص طور پر انکم ٹیکس استثنیٰ اور پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے دی گئیں رعایتوں پر غور کیا جائے ، جس سے قومی خزانے میں 90 ارب روپے تک شامل ہوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں سابق حکومت کے مقبول اور امیروں کے مفاد میں کئے گئے فیصلوں کو ختم کرنے کے لئے سنجیدگی سے سخت اقدامات اٹھائے جائیں ۔ 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟