16 جولائی 2018
تازہ ترین
جیل جانا پڑے  یا پھانسی چڑھایا جائے،اب قدم نہیں رکیں گے،نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اب جیل جانا پڑے یا پھانسی پر چڑھایا جائے لیکن اب ان کے قدم نہیں رکیں گے۔ لندن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت پر اپنی قوم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ نواز شریف نے کہا کہ جیل کی کوٹھری اپنے سامنے دیکھ کر بھی پاکستان واپس جارہا ہوں، ووٹ کو عزت دو کا وعدہ پورا کرنے جارہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا پاکستان کی تاریخ میں کوئی شخص 11 سال قید بامشقت کی سزا سننے کے بعد پاکستان واپس آیا ہے؟ مجھے جس قوم نے تین مرتبہ وزیراعظم بنایا اس کا قرض اتارنے جارہا ہوں۔ اپنے خلاف احتساب عدالت کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ لکھنا پڑا کہ میرے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا، فیصلے میں لکھا گیا کہ نواز شریف کو کرپشن کے الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک دنیا میں باوقار مقام حاصل نہیں کر سکتا جب تک آئین کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ میں پاکستان کے ہر ادارے کا احترام کرتا ہوں، جانتا ہوں ادارے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا، دنیا بھر کی دھمکیوں کے باوجود ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، اپنے دفاع کو مضبوط کیا۔

 سابق وزیراعظم نے کہا کہ کہنے کو پاکستان میں جمہوریت ہے لیکن جمہوریت کے تمام تقاضے کچل دئیے گئے ہیں، سچ بولنا مشکل بنا دیا گیا ہے، کردار کشی کا شرم ناک کھیل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل کی طرف جاتے ہوئے سوچ رہا ہوں پورا ملک ایک جیل بن چکا ہے، وقت آگیا ہے پاکستان کو جنگل اور جیل کے بجائے اکیسویں صدی کا ملک بنایا جائے۔ نواز شریف نے کہا کہ انگریزوں کی غلامی سے نکل کر اپنوں کی غلامی میں آگئے ہیں، ایسے ملک چلتے ہیں؟ اگر ہم نے ترقی کرنی ہے اور پاکستان کی عوام کو خوشحال بنانا ہے تو یہ سب کچھ بدلنا ہوگا اور جلدی بدلنا ہوگا۔

نواز شریف نے کہا کہ   پاکستان جارہا ہوں، مریم میرے ساتھ ہوں گی، لاہور ایئرپورٹ پر عوام سے خطاب کروں گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ صرف 13 جولائی کو نہیں بلکہ 25 جولائی کو بھی اسی جذبے کے ساتھ گھروں سے نکلیں۔


عوامی سروے

سوال: الیکشن 2018 کیلئے کونسی جماعت آپکی فیورٹ؟