جنوری کے وسط میں منی بجٹ لانے کا اعلان

 جنوری کے وسط میں منی بجٹ لانے کا اعلان

 وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے جنوری کے وسط میں منی بجٹ لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ منی بل ریونیو پیدا کرنے کیلئے نہیں لا رہے۔ وزیراعظم ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط سے زیادہ اصلاحات کی رفتار اور سمت اہم ہیں، وزارت خزانہ نے اب تک جو بھی فیصلے کئے ان کا آئی ایم ایف کی شرائط سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے اور سٹیل مل کی بحالی کیلئے جنوری کے آخر تک پلان سامنے آجائیگا، یہ طے ہو جائیگا کہ دونوں اداروں کو کیسے بحال کیا جائے، ان اداروں کی بحالی کیلئے گرینڈ حکمت عملی بنارہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ پی آئی اے کو 17 ارب روپے کنویں میں ڈالنے کیلئے نہیں دیئے، پی آئی اے ازسرنو بحالی کا پروگرام دیگا۔ سٹیل ملز میں بہتری کی بڑی گنجائش ہے، سرکاری اداروں میں کرپشن کی کوئی معافی نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ  توانائی کے شعبے میں نقصانات برداشت نہیں کریںگے، توانائی کے شعبے میں 140 ارب کی بہتری ایک سال میں لائیںگے، سمارٹ میٹرنگ سسٹم جلد نافذ ہوگا، پہلے 100 دن میں ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا بڑا چیلنج تھا، این ایف سی پر سندھ نے ممبر کا نام بھیج دیا ، جلد فہرست وزیراعظم کو بھیج دیںگے۔ علاوہ ازیں وزیر خزانہ اسد عمر سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمان نے ملاقات کی۔ وزیر خزانہ نے انہیں گلگت بلتستان میں ہائیڈرو انرجی اور ٹورازم سیکٹر کی ترقیاتی سکیموں کیلئے بھرپور تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ حفیظ الرحمن نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں ٹورازم کے فروغ کیلئے ٹھوس اقدام اٹھائے جارہے ہیں۔ وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کیلئے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن کی جانب سے سہولیات بھی زیرغور لائی گئیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟