19 ستمبر 2018
جلیبیاں بنانے والا روبوٹ تیار

دنیا بھر میں روبوٹکس اور آٹومیشن سے حیرت انگیز کام لئے جارہے ہیں اور اب پاکستان کی ایک کمپنی نے جل بوٹ روبوٹ بنایا ، جو پاک  و ہند کی مشہور سوغات جلیبیاں بنا سکتا ہے۔ پاکستانی ادارے اوبوٹکس اینڈ آٹومیشن ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن کے شریک بانی عبداللہ افضل کو 2017 میں اس روبوٹ کو بنانے کا خیال اس وقت آیا ، جب وہ ناروے میں اپنے ایک دوست سے ملنے گئے جو پاکستانی مٹھائیوں اور مصنوعات کو فروخت کرتے تھے۔ ناروے میں افرادی قوت مہنگی ہونے کے باعث انہوں نے جلیبی ساز روبوٹ پر کام کیا۔ عبداللہ افضل میکاٹرونکس کے ماہر ہیں اور انہوں نے اپنے پاکستانی ساتھی محمد زبیر کے ساتھ مل کر جلیبی روبوٹ پر کام کیا اور یوں ایک سال میں روبوٹ جلیبی بنانے کے قابل ہوگیا۔ عبداللہ افضل نے بتایا کہ روبوٹ بنانے میں کئی مشکلات پیش آئیں کسی بھی ٹیکنالوجی سٹارٹ اپ کمپنی کے چار اہم اجزا ہوتے ہیں، یعنی وقت، مستقل مزاجی، ناکامی اور رقم ، ان سے گزرتے ہوئے ہم چوتھا روبوٹ پروٹوٹائپ تیار کر رہے ہیں یہ روبوٹ صارف کی تمام ضروریات پوری کرے گا ، تاہم اس میں غذائی معیارات کے بین الاقوامی اصول نظرانداز نہیں کئے جائیں گے۔ جل بوٹ کا پورا فریم بے زنگ فولاد پر مشتمل ہے اور ایک گھنٹے میں 40 کلوگرام جلیبیاں بنا سکتا ہے۔ اس میں تبدیلی کرکے صارف کی ضرورت کے تحت تبدیل کیا جاسکتا ہے ، جس میں جلیبی کی چھوٹی یا بڑی جسامت شامل ہے۔ دوسری جانب چاکلیٹ وغیرہ کو من پسند شکلوں اور سائز میں بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کیک بنانے میں بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ناروے کی کئی بیکریوں کو جل بوٹ فروخت کیا جا چکا ہے اور دوسرے مرحلے میں اسے برطانیہ کی بیکریوں کو فروخت کرنے کی بات چیت بھی جاری ہے۔ اگلے مرحلے میں ڈبل جلیبی بنانے والی مشین تیار کی جائے گی ۔ 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟