25 اپریل 2018
تازہ ترین
چیئرمین پیمرا سرچ کمیٹی سے مریم فارغ  

  سپریم کورٹ نے چیئرمین پیمرا کے انتخاب کے لئے سرچ کمیٹی کی تشکیل نو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو کمیٹی سے نکال دیا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے، کمیشن میں نمایاں صحافی اور پی بی اے کے چیئرمین کو شامل کیا گیا ہے، کمیشن چیئرمین پیمرا کے لیے 3 ممبران کے پینل کا انتخاب کرے گا۔ اس دوران چیف جسٹس نے کہا کہ کہ یہ کام ہوتے ہوتے تو بہت وقت لگ جائے گا، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ کام 3 ہفتوں کے اندر ہوجائے گا۔ عدالت نے چیئرمین پیمرا کے انتخاب کے لئے سرچ کمیٹی کی تشکیل نو کردی، جس سے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو نکال کر سیکرٹری اطلاعات کو شامل کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مریم اورنگزیب بیانات دینے میں مصروف ہوں گی، ان کے لئے کمیٹی کے لئے وقت نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 2 روز قبل عدالت کے باہر نعرے لگائے گئے، جب ہم نے آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ سنایا، یہاں عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگائے گئے ہیں، نااہلی کیس کے بعد ہی نعرے لگے، خواتین کو شیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں، غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ابھی صبر اور تحمل سے کام لے رہے ہیں، کسی شیر کو میں نہیں جانتا۔ چیف جسٹس نے ججز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہیں اصل شیر ، اتنا احترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہئے، کسی کی تذلیل مقصود نہیں ، اس دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ بات زبان سے بڑھ گئی ہے، میڈیا کی آزادی عدلیہ سے مشروط ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگا، اگر ہماری بات ٹھیک نہیں تو بولنا بھی بند کر دیں گے، قانون سازوں کو قانون میں ترمیم کے لئے تجویز نہیں کر سکتے، پارلیمنٹ آرٹیکل 5 میں ترمیم نہ کرے تو کیا کریں؟ آرٹیکل 5 اور6 آئین کے آرٹیکل 19 سے مطابقت نہیں رکھتے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ  لگتا ہے حکومت کو کوئی خوف نہیں، حکومت کا پیمرا پر کنٹرول ختم کرنا چاہتے ہیں، پیمرا آزاد ادارہ ہونا چاہئے، حکومت پر کوئی تلوار نہیں ہے لیکن یہ کام ہونا چاہئے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔  علاوہ ازیں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعہ کی تحقیقات میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں فٹبال فیڈریشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد اظہار یک جہتی پر سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کا شکریہ ادا کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور تحقیقات میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 


عوامی سروے

سوال: آپ کے خیال میں پاکستان کا اگلا وزیراعظم کون ہونا چاہیے؟