23 ستمبر 2018
تیز چلنے کی عادت کرے ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم

آج کل ادھیڑ عمری یا درمیانی عمر میں ہونے والی اموات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے، جس کی زیادہ تر وجہ دل کا دورہ اور فالج جیسی جان لیوا بیماریاں ہیں۔ لیکن آسٹریلیا میں ہونے والی ایک تحقیق میں اس خطرے کو ٹالنے کیلئے ایک آسان عادت اپنانے کا مشورہ دیا گیا ، جسے  اپنا کر لوگ دل کو صحت مند رکھ کر ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ ٹال سکتے ہیں۔ سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق درمیانی عمر میں لوگ اگر تیز چلنے کو عادت بنالیں تو وہ فالج یا ہارٹ اٹیک کے خطرے کو 50 فیصد تک کم کر سکتے ہیں۔15  سال تک چلنے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے چلنے کی اوسط رفتار اگر 3 میل فی گھنٹہ ہو تو مختلف امراض سے موت کا خطرہ 20 فیصد تک کم کر سکتے ہیں ، خصوصاً فالج یا ہارٹ اٹیک سے موت کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ محققین نے یہ دریافت کیا کہ تیز رفتار سے چلنا ہر عمر کے افراد کے دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے، مگر اس کا سب سے زیادہ فائدہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمر کے افراد کی اوسط رفتار 3 سے 4 میل فی گھنٹہ ہو تو ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ آہستگی سے چلنے والوں کے مقابلے میں 53 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تیز چلنا عام طور پر 3 سے 4.35 میل فی گھنٹہ کی رفتار سمجھی جاتی ہے، مگر اس کا انحصار چلنے والے کے فٹنس لیول پر ہوتا ہے، تو تیز چلنے کا عندیہ ہلکا سا سانس چڑھ جانا یا پسینہ آنے کی صورت میں بھی ملتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟