20 اکتوبر 2018
تازہ ترین
 تھر کول پیداواری منصوبے میں بدعنوانی پر کمیٹی کی تشکیل کا حکم

 سپریم کورٹ نے زیر زمین گیسوں سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے میں بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تھر کول پاور پراجیکٹ منصوبے پر از خود نوٹس کی سماعت کی۔ اس موقع پر معروف سائنسدان اور تھرکول میں زیرزمین گیس نکالنے کے منصوبے کے چیئرمین ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے 8.8 ارب روپے سے 100 میگاواٹ کا پلانٹ لگایا اور یہ منصوبہ سندھ حکومت کا تھا،  اکتوبر 2012 میں 900 ملین فنڈ ملا اور 15-2014 میں 8 میگاواٹ کے منصوبے مکمل ہوئے۔ جس پر چیف جسٹس نے ڈاکٹر ثمر کو کہا آپ اپنے منصوبے کی تعریف نہ کریں، ہمیں دیکھنا ہے کہ آپ نے کیا کیا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا زیر زمین گیس پراجیکٹ پر 3.4 ارب روپے خرچ کے باوجود توانائی کی پیداوار صرف 8 میگاواٹ کیوں ہے'۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایک پراجیکٹ 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا جس پر 1.9 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی جب کہ 330 میگاواٹ کے تین منصوبے زیر تکمیل ہیں اور ان پر 1.77 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ درآمدی کوئلے سے چلنے والا ایک پلانٹ پورٹ قاسم دوسرا ساہیوال میں لگا، دونوں 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ عدالت نے زیر زمین گیسوں سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے میں بد عنوانی پر کمیٹی تشکیل دی اور کہا کہ توانائی کے ماہرین اور سائنسدانوں پر مشتمل کمیٹی بنا رہے ہیں جب کہ عدالت کی جانب سے سلمان اکرم راجہ اور شہزاد الہیٰ کو عدالتی معاون مقرر کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو   سے منصوبے میں بد عنوانی کی تحقیقات سے متعلق جواب بھی طلب کرلیا اور کہا کہ نیب بتائے اس منصوبے میں کی گئی بد عنوانی کیسے سامنے لائی جاسکتی ہے۔ عدالت نے تھر میں زیر زمین گیس منصوبے میں ملازمین کو عدم ادائیگی کا بھی نوٹس لے لیا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟