25 جون 2019
 تھری ڈی سکیننگ دکھانیوالا طبی سکینر

تھری ڈی سکیننگ دکھانیوالا طبی سکینر

ایک عشرے کی بھرپور محنت کے بعد پورے جسم کی سکیننگ کرنے والا پی ای ٹی یا پوزیٹران ایمیشن ٹوموگرافی سکینر تیار کیا گیا ، جو موجودہ پیٹ سکینر سے 40 گنا تیز رفتار ہے اور صرف ایک سکین میں پورے جسم کا تھری ڈی ماڈل تیار کر سکتا ہے۔ اسے ایکسپلورر کا نام دیا گیا ، جس میں پی ای ٹی اور ایکس رے کمپیوٹر ٹوموگرافی کو باہم ملاکر استعمال کیا گیا ۔ کئی سال کی مسلسل محنت کے بعد اس کا پہلا نمونہ 2016 میں سامنے آیا تھا جو قدرے چھوٹا تھا اور اس کے بعد پورے انسانی قد کے برابر سکینر حال ہی میں بنایا گیا ۔ اسے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈے وس اور چین میں شنگھائی امیجنگ ہیلتھ کیئر نے مشترکہ طور پر بنایا ۔ سکینر کے حیرت انگیز نتائج دیکھ کر ماہرین بہت خوش ہیں اور ان کے مطابق اسے مریضوں کے علاج اور تحقیق میں بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں نیوکلیئر میڈیسن کے ماہر اور سکینر انجینئر رامسے بداوی نے کہا کہ  اگرچہ یہ حیرت انگیز تصاویر اور تفصیل دکھاتا ہے لیکن اس میں تصاویر جوڑنے کا عمل مزید بہتر بنایا جائے گا، یہ عام پی ای ٹی سکینر کے مقابلے میں بہت آگے ہے، اب تک ایسا کوئی آلہ نہیں بن سکا جو اس طرح کا تفصیلی جسمانی ڈیٹا ظاہر کرسکے۔ ایکسپلورر 20 سے 30 سیکنڈ میں پورے جسم کا سکین بنا لیتا ہے جو روایتی پی ای ٹی سکینر کے مقابلے میں 40 گنا حساس اور تیز ہے۔ اس کے لئے مریض کو ریڈیائی ٹریسر کی کم مقدار دی جاتی ہے اور اس کے بدلے تفصیلی تصاویر لی جاسکتی ہیں، جس کی بدولت سالماتی سطح پر بھی مرض کو جاننے میں مدد ملے گی۔ توقع ہے کہ ایکسپلورر سے بیماریوں کی تشخیص میں بہت مدد ملے گی اور شاید ہم امراض کو ایک نئے انداز سے جان پائیں گے۔ اس سکینر کی تفصیلات شکاگو میں منعقدہ ریڈیالوجیکل سوسائٹی آف نارتھ امریکا کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی جائیں گی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟