تنہائی زندگی کے دن کم کرنے کا باعث

 ایک نئے مطالعے سے ثابت ہوا ہے کہ تنہا رہنے سے انسانی خلیات ( سیلز) کی سطح پر غیر معمولی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو مختلف امراض کی وجہ بنتی ہے اور اس سے اوسط زندگی پر بھی منفی اثر ہوتا ہے۔ امریکا میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اور یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرین نے بتایا ہے کہ تنہا رہنے سے جسم کے سفید خلیات ( وائٹ بلڈ سیلز) کی تعداد پر اثر ہوتا ہے اور وہ جسم کے قدرتی طور پر لڑنے والے مدافعتی نظام کو کمزور کرتے ہیں اور انسان بیماریوں کا گھر بن سکتا ہے۔ ماہرین نے تنہائی کے مطالعے کے لئے 141 بوڑھے افراد کا جائزہ لیا ، جن میں کچھ لوگ تنہا رہنا اور کچھ لوگ معاشرتی سطح پر لوگوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تنہا رہنے والے افراد میں سوزش اور جلن کی شدت زیادہ تھی اور ان کی صحت پر بھی برے اثرات مرتب ہورہے تھے۔ یہ تحقیقات پروسیڈنگ آف نیشنل اکیڈمی آف سائنٹسٹس کے ایک جریدے میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا اصرار ہے کہ اکیلا پن صرف بزرگوں کو ہی نہیں بلکہ جوان افراد کو بھی متاثر کرتا ہے اور اکیلا پن انہیں بیماریوں کے گھیرے میں دے دیتا ہے۔ برطانیہ میں بوڑھے افراد کا خیال رکھنے والی ایک فلاحی تنظیم کی سربراہ کیرولین ابراہمز کے مطابق تنہائی سے زندگی مشکل ہوجاتی ہے اور اس سے جسمانی اور دماغی صحت پر بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دیگر ماہرین کے مطابق جیسے ہی آپ طویل تنہائی میں ہوتے ہیں ویسے ہی صحت دشمن ماحول میں آ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق دوستوں اور ہم خیالوں سے بات چیت کا عین اثر وہی ہوتا ہے جو درد کم کرنے والی اور سکون پہنچانے والی دوائوں سے ہوتا ہے اس لئے باہر نکل کر دوستوں اور لوگوں سے بات کیجئے اور بیماریوں کو دور بھگایئے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟