26 ستمبر 2018
تازہ ترین
 ترقی کیلئے مستحکم کیپٹل مارکیٹ ضروری، شمشاد

 نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ ملک کی بڑھتی ہوئی مالیاتی ضروریات کو سہارا دینے والے مقامی وسائل کو متحرک بنانے کے لئے مستحکم کیپٹل مارکیٹ ضروری ہے۔ نگران وزیر خزانہ نے کیپٹل مارکیٹ کے مستقبل کی ترقی کے لئے درکار روڈ میپ کی تیاری کے لئے سٹاک مارکیٹ کے اہم اراکین کی کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے، ایس ای سی پی کو ہدایت کی گئی تھی کہ آئندہ پانچ سال کے لئے نیا سٹریٹجک پلان پیش کریں۔ چیئرمین پی ایس ایکس رچرڈ مورین نے سٹاک مارکیٹ کے دیگر اراکین کے ہمراہ وزیر خزانہ کو پاکستان کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے لئے روڈ میپ سے متعلق پریذنٹیشن دی۔ انہوں نے کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے لئے پاکستان سٹاک ایکسچینج پی ایس ایکس کے اقدامات سے آگاہ کیا، جن میں پالیسی سازی کے اثرات، استعداد کار میں اضافہ، سرمایہ کار ی کو وسعت دینے کے لئے درکار سہولتوں اور ترغیبی اقدامات، بروکرج اور صنعتی مینجمنٹ کے اثاثے بشمول نئی مصنوعات متعارف کرانے کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے ٹیکس ماحول کی بہتری اور ڈیبٹ کیپٹل مارکیٹ کے انتظام کی ضرورت پر زور دیا۔ ایس ایم ای کی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی میں کیسے بہتری لائی جاسکتی ہے اس پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مارکیٹ کے تمام فریقین کی اصلاحات سمیت باہمی فنڈ انڈسٹری کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری پنشن فنڈ کے نظام کے مالی استحکام کے فقدان سے متعلقہ تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رچرڈ مورین نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج نے تین سالہ سٹریٹجک پلان تیار کیا ، جو پاکستان سٹاک ایکسچینج کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ اور ایس ای سی پی کو پیش کر دیا جائے گا۔ ایس ای سی پی نے شفاف اور آزاد ریگولیٹری ڈھانچے پر مبنی جدید اور موثر کیپٹل مارکیٹ کی ترقی سے متعلقہ اپنے عزم کا اعادہ کیا ، جس سے قوانین پر عملدرآمد کے ساتھ  سرمایہ کار کے تحفظ اور نظام کے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ایس ایس سی پی نے فعال کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے لئے اپنے مقاصد کیپٹل کی تشکیل اور مسابقتی سرمایہ کار منزل متعین کرنے اور پروڈکٹ ڈویلپمنٹ اور سرمایہ کاری کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بین الاقوامی مالیاتی ماہر اور مشیر ہارون شریف نے کیپٹل مارکیٹ اصلاحات پر اپنا نکتہ نظر پیش کیا اور ایس ای سی پی کی استعداد کار میں اضافہ اور پرائمری مارکیٹ کی ترقی کے لئے گورننس کی تیزی پر توجہ مرکوز کرنے اور مالیاتی کمپنیوں کی کارکردگی پر روشنی ڈالی جو پاکستان اور چند اہم رکن ممالک کے مابین اشتراک سے تشکیل دی گئی ہیں۔ نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے اختتامی کلمات میں کہا کہ موثر اور مضبوط تر مقامی کیپٹل مارکیٹ کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں ، جوکہ درکار مسابقت اور قرض کو مربوط بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے جامع، مربوط اور مجموعی کیپٹل مارکیٹ ایجنڈے کی تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایس ای سی پی کی گورننس کو مستحکم بنانے، وزارت خزانہ کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے لئے معاون بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام کلیدی ریگولیٹرز کے مابین ادارہ جاتی تعاون کے فروغ اور تمام سٹیک ہولڈرز اور مارکیٹ کے صنعتی شرکا کے مابین مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے اور باہمی تجربات کے تبادلے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی شعبوں کے اس مقصد کے حصول کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شرکا کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور ان کو نئی حکومت کے غور کے لئے دستاویزی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایات دیں کہ جب تک کوئی باقاعدہ طریقہ کار وضع نہیں ہوجاتا فنانس ڈویږن میں ایک فوکل پرسن ہونا چاہئے اور ایڈیشنل فنانس سیکریٹری  انٹرنل فنانس  کو کیپٹل مارکیٹ سے متعلقہ امور پر مختلف فریقین کے ساتھ رابطہ کے لئے فوکل پرسن نامزد کیا۔ انہوں نے کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے ایجنڈے پر آئندہ ہفتے مزید تبادلہ خیال کی ضرورت پر زور دیا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟