15 نومبر 2018
تحقیقاتی کمیشن کا حکومت، حزب اختلاف کے ضوابطِ کار سے متفق ہونا ضروری نہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف پاناما لیکس کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کا کسی جماعت کے ضوابطِ کار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہو گا۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں لارجر بینچ نے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس میں سامنے آنے والے الزامات کی باقاعدہ سماعت کی۔

٭ کل سے احتساب شروع، اب عدالت نواز شریف سے حساب لے گی: عمران خان

٭ پاناما کمیشن بنانے کا فیصلہ، احتجاج کی جگہ یومِ تشکر

سماعت کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے جانے والے جواب میں اس موقف کو دہرایا گیا کہ ان کے پاس موجود اثاثے اور جائیداد وہی ہے جس کے بارے میں اپنے ٹیکس اور انتخابی گوشواروں میں بتا چکے ہیں۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے تینوں بچے ان کے زیر کفالت نہیں ہیں۔

عدالت میں وزیراعظم کے علاوہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے بھی جواب جمع کرایا گیا ہے تاہم وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز اور بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کی جانب جوابات جمع نہیں کروائے گئے اور عدالت نے انھیں پیر جواب جمع کرانے کی حتمی مہلت دی ہے۔

سماعت کے دوران ضوابطِ کار کے بارے میں عدالت کے استفسار پر حکومت اور تحریکِ انصاف کے وکلا کا کہنا تھا کہ وہ آج ٹی او آرز جمع کروا دیں گے۔

اس پر چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ پاناما لیکس کے الزامات کی تحقیقات کے لیے قائم ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے لیے کسی بھی جماعت کی جانب سے جمع کرائے جانے والے ٹی اور آرز یا ضوابطِ کار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہو گا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟