17 نومبر 2018
تازہ ترین
مذہبی جماعت کا ملک بھر میں احتجاج  شروع، ٹریفک  جام

لاہور میں پنجاب حکومت اورتحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد تنظیم کے کارکنوں نے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کردیں جبکہ لاہور کی ضلعی انتظامیہ نےاحتجاج کے باعث میٹرو بس سروس بھی بند کردی ہے ۔اس مذہبی تنظیم کے کارکن راولپنڈی، لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، منڈی بہاء الدین اور پشاور میں احتجاج کررہے ہیں۔لاہورمیں مذہبی جماعت کامرکزی دھرنا داتا دربارکے باہر جاری ہے، مذہبی جماعت کے رہنماؤں نے مطالبات کی منظوری کے لے حکومت کو 12 اپریل کی شام تک کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے پورے ہونے سے قبل حکومت اورمظاہرین کےدرمیان مذاکرات ہوئے جو ناکام ہوگئے۔مذاکرات ناکام ہونے کے بعد مذہبی جماعت کے رہنماؤں کی کال پر کارکنوں نے لاہور میں بابو صابو، شاہدرہ چوک، چونگی امرسدھو، ٹھوکر نیاز بیگ، چوہنگ ملتان روڈ، دروغہ والاچوک پر احتجاج شروع کردیا جس سےٹریفک بلاک ہوگئی۔احتجاج کے باعث لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے میٹروبس سروس بھی بند کردی ہے۔موٹروے کے فیض پور انٹرچینج سمیت شیخوپورہ اوردیگر شہروں میں بھی احتجاج کیا جارہا ہے، احتجاج کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور کئی مقامات پر ایمبولینس بھی ٹریفک جام میں پھنس گئیں۔موٹروے پولیس کے مطابق قومی شاہراہ پکامیل،موہلنوال ،جمبر، پتوکی ،ساہیوال اورچیچہ وطنی میں احتجاج کے باعث بند ہے جس کے باعث گاڑیوں کو متبادل راستوں سے گزرا جارہا ہے۔مذہبی جماعت کے کارکنوں نے راولپنڈی کی مری روڈ ، گوجر خان اور ٹیکسلا میں بھی دھرنا دیا ہوا ہے جس سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔راولپنڈی میں مذہبی جماعت کے کارکن اچانک سڑکوں پر نکل آئے اور ڈنڈوں سے لیس کارکنوں نے لیاقت باغ چوک پر دھرنا دے کر مری روڈ ٹریفک کے لیے بند کردی اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ذرائع کے مطابق اس بات کے انتظامات کیے جارہے ہیں کہ مذہبی جماعت کے کارکن کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہ ہوسکیں جبکہ پولیس کے ساتھ رینجرز کو بھی اسلام آباد کے داخلی راستوں کے قریب الرٹ کر دیا گیا ہے،ادھرکراچی میں نمائش چورنگی پر احتجاجی دھر نا دیا اور ایم اے جناح روڈ کا ایک ٹریک ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند کر دیا ۔ واضح رہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت سے مذاکرات جاری ہے لیکن مطالبات کی من و عن منظور ی تک دھرنا جاری رہے گا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟