15 نومبر 2018
 بینکاروں کےخلاف کارروائی مارکیٹ اپ سیٹ

نئے منی لانڈرنگ اسکینڈل سے سیاسی میدان میں بھونچال اور بینکنگ سیکٹر کی اہم سرکردہ شخصیات کو بیرون ملک جانے سے روک کر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں طلب کیے جانے سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج ہل کر رہ گئی۔ بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے خدشات کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے اپنے سرمائے کو ڈوبنے سے بچانے کیلئے گھبراہٹ میں حصص بیچے،جس کے نتیجے میں بینکنگ، تیل وگیس،آٹو سمیت تمام شعبوں میں سرمائے کا انخلا دیکھاگیا اوربنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 40000 پوائنٹس کی نفسیاتی حدگنواتا ہوا 8ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا،ماہرین اسے سال کی تیسری بڑی مندی قراردے رہے ہیں جس کے نتیجے میں چند ایک کو چھوڑ کر بیشترکمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گر گئیں اور سرمایہ کاروں کے 1 کھرب 76 ارب 52 کروڑ 55 لاکھ 4 ہزار 606 روپے ڈوب گئے۔واضح رہے کہ ایون فیلڈکیس میں احتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف،ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ر صفدر کو سزا ہونے کے بعد منی لانڈرنگ کیس میں اہم بینکار حسین لوائی اور دیگر کی گرفتاری کے بعد اہم شخصیات کے نام سامنے اور سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل ہونے کے باعث حصص مارکیٹ میں بے یقینی وخوف کی کیفیت دیکھی گئی جس کیوجہ سے کاروبارکے آغاز پر تیزی کے فوری بعد بڑے پیمانے پر دھڑادھڑ حصص فروخت کیے گئے جس کیوجہ سابق وزیر اعظم میاں نوازکی وطن واپسی پرگرفتاری،سندھ کی بااثر سیاسی شخصیت کےخلاف تحقیقات اور اسٹاک ایکس چینج سے متعلق اہم شخصیت کی گرفتاری کو قرار دیا جا رہا ہے۔ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 39000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرتے گرتے بچی اور انڈیکس 39067پوائنٹس تک گر کر معمولی ریکور ہوا، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 995.66پوائنٹس کی کمی سے 39288.48 پوائنٹس پر بند ہوا، کے ایس ای 30انڈیکس 518.67 پوائنٹس گھٹ کر 19254.89،کے ایم آئی 30 انڈیکس 1840.32 پوائنٹس کمی سے 66073.21 اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس628.45پوائنٹس گھٹ کر 28890.60 پوائنٹس پر بند ہوا۔گزشتہ روز 334کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے صرف 30کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکا جبکہ 286کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور18کمپنیوں کے بھاؤ میں استحکام رہا، کاروباری حجم گزشتہ روز کی نسبت 18.95 فیصد زیادہ رہا اور 12کروڑ35لاکھ 82ہزار 750 حصص کے سودے ہوئے،مارکیٹ کیپٹل 1 کھرب 76 ارب 52 کروڑ 55 لاکھ 4 ہزار 606 روپے کمی سے 81 کھرب 81 ارب 80 کروڑ روپے رہ گیا۔قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے لحاظ سے سے سفائرٹیکسٹائل کے حصص سرفہرست رہے جس کے حصص کی قیمت 18.63روپے اضافے سے 1000روپے اوراٹلس بیٹری کے حصص کی قیمت 16.12 روپے اضافے سے 424.15 روپے ہوگئی، نمایاں کمی انڈس موٹر کے حصص میں ہوئی جو59.34روپے کی کمی سے 1276.35روپے اورپاک ٹوبیکو کے حصص کی قیمت 52.50روپے کمی سے 2200روپے ہوگئی۔الیکٹرک کی کاروباری سرگرمیاں1 کروڑ19لاکھ 27 ہزار شیئرزکے ساتھ سرفہرست رہیں جبکہ بینک آف پنجاب، لوٹے کیمیکل،یونٹی فوڈز،پاک الیکٹران، فوجی فوڈز، ٹی آر جی پاک،پاک انٹر بلک، یونائیٹڈ بینک اورفوجی سیمنٹ کے حصص کی سرگرمیاں بھی نمایاں رہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟