24 اپریل 2019
تازہ ترین
بینو شہابیے کی رفتار میں کئی گنا اضافہ

بینو شہابیے کی رفتار میں کئی گنا اضافہ

 امریکی خلائی تحقیقی ادارے نے حالیہ مہینوں میں اپنی سرگرمیاں جو تیز تر کردی ہیں ان کے نتائج بھی سامنے آنے لگے ہیں اور کئی نئی باتیں دنیا کو معلوم ہونے لگی ہیں۔ اب ناسا کے خلائی تحقیقی جہاز کی مدد سے جو تصاویر سامنے آئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ بینو نامی شہابیہ عام اندازے اور توقع سے کہیں زیادہ رفتار سے چرخی کی طرح گردش کر رہا ہے۔ مگر ایسا کیوں ہورہا ہے اب تک سائنسدان اس کی اصل وجہ جاننے سے قاصر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شہابیہ خلا کی انتہائی وسعتوں میں موجود چٹانوں کے عقب میں متحرک ہیں۔ ناسا نے کہا ہے کہ بینو شہابیہ کا قطر 492میٹر ہے اور ہر 4گھنٹے 20منٹ پر چرخیوں کی طرح گھومتا ہوا اپنی گردش کو مکمل کرلیتا ہے۔ اس کی تحقیق کیلئے 1999سے 2005تک طاقتور زمینی دوربینوں کی مدد سے اور پھر ہبل دوربین کے طفیل تحقیقی کام کیا جاتا رہا ہے۔ اسی شہابیے کے حوالے سے دور افتادہ خلائی وسعتوں میں موجود چٹان کو بھی بینو کا نام دیا گیا ہے۔ جہاں تک اس کے حجم کا تعلق اس گردشی عمل کی وجہ سے ایک صدی میں اس کا حجم کم ہوجاتا ہے مگر ایسا کیوں ہوتا ہے سائنسدان اب تک اس کی صحیح معلومات کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ ناسا کے مطابق بینو پر جاری تحقیق سے نظام شمسی کے دوسرے دور افتادہ سیاروں کو بھی سمجھنے میں مدد ملے گی۔ جہاں تک فاصلے کا تعلق ہے تو یہ کرہ ارض سے 70کروڑ میل کے فاصلے پر ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟