22 ستمبر 2018
بھارت کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا پیغام ،   وزیر خارجہ

 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کے روز ایک نجی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف  کی حکومت کے مستقبل  میں ویږن کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ  پاکستان  کے 6اہم ممالک سے خارجہ امور اہمیت کا تعلق رکھتے ہیں  اور مستقبل میں  ان 6اہم ممالک سے  رابطہ کرکے  تعلقات کو مزید بہتر بنایا جائے گا  انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پارلیسی پاکستان سے شروع ہوکر پاکستان پر ہی آکر ختم ہو  ہوگی کیونکہ پاکستان سب سے مقدم ہے  ،ملکی خارجہ پالیسی کی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں استحکام کو فروغ دیا جاسکے اور خارجہ پالیسی میں  جہاں پیش رفت ممکن ہوئی اپوزیشن سے ملک بیٹھ کر کے  خلا کوپر کریں گے ، عمران خان کا ویږن ہے کہ ایک عام آدمی کی زندگی کو کس طرح سے بہتر بنایا جاسکتا ہے  اور اس حوالے سے ہمارے پالیسی میکرز کام بھی کررہے ہیں اور ہم بین الاقوامی ممالک سے تعلقات کو بہتر بناکر  ملک کی معاشی صورتحال کو تبدیل کرنے پر بھی کام کررہے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت کا ملک سے غربت کا خاتمہ اولین ترجیحات میں شامل ہے ، خطے کے بے پناہ درپشی چیلنجز سے  آگاہ ہوں اور ہم ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں  کیونکہ  کچھ قوتیں پاکستان کو تنہا کرنے کی متواتر کوششیں کرتی آرہی ہےں  اور ان کو اس میں فائدہ بھی ہوا ہے کیونکہ گزشتہ ساڑھے چار سال سے ملک میں  وزیر خارجہ ہی نہیں تھا جس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا  اور ہمارے مخالفین  اپنی حکمت عملی میں کامیاب رہے  اور ہم پاکستان کا اصل چہرہ د نےا کے سامنے دکھانے  میں ناکام رہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ   ملکی مفاد میں پیپلزپارٹی کی سابق وفاقی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر    اور مسلم لیگ ن کے خواجہ محمد آصف سمیت  سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے رہنمائی لینے کیلئے تیار ہوںوزیر خارجہ نے کہا کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے وزرائ خارجہ کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں اور ایم ایم اے  کا جو پارلیمانی لیڈر سے بھی مشاورت کیلئے تیار ہوںانہوں نے کہا کہ  آئندہ ماہ اقوام متحدہ کا اجلاس ہونے جارہا ہے اس میں پاکستان کی نمائندگی کروں گا  اس وجہ سے حزب اختلاف بھی قوم کی امنگوں کا حصہ ہے تاکہ ان کے خیالات سے بھی مستفید ہوسکوں ،وہ افغانستان کے وزیر خارجہ سے رابطہ کرکے  کابل کے دورے کا ارادہ رکھتے  ہےں کیونکہ افغانستان کے مسائل کے حل کیلئے کابل کا دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے اپنے دورے میں افغان  قوم کے پاس محبت دوستی اور نئے دور کے آغاز کا مثبت پیغام لے جانا چاہتا ہوں کیونکہ افغانستان میں امن کے بغیر پاکستان میں امن ممکن نہیں ہم ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور اب ماضی کی روش کو چھوڑ کر نیا راستہ اختیار کرنا ہوگا  انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ  کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ  ہمیں یہ قطعً نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت نہ صرف ہمسائے  بلکہ ایٹمی طاقتیں ہیں  اور ہمارے درےنہ مسائل  ہےں لیکن ان مسائل کا ادراک بھی موجود ہے  مسئلہ کشمیر دونوں ممالک میں تنازعات کی بنیادی وجہ ہے جس کا حل  گفت و شنید کے علاوہ  کوئی اور نہیں پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ ایڈوینچر کو استعمال نہیں کرسکتے اور نہ ہی  مزید  ایک دوسرے کے ساتھ ناراض رہ  سکتے ہیں  آنجہانی و اجپائی  کی وفات پر  ہمارا  وفد بھارت گیا ہے  اور وہاں پر تعزیت کی  انجہانی واجپائی  نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور وہ کشمیر ڈکلیریشن کا  حصہ بھی بنے تھے  شاہ محمود قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تارکین وطن  کے حوالے سے عمران خان نے اپنے قومی خطاب میں ذکر کیاکہ تارکین وطن حقیقت میں ہمارے خادم ہیں  ہمیں تارکین وطن کی فراخ دلی اور عزت سے پیش آنا چاہیے انہوں نے مزید کہا کہ اندرونی چیلنجز اور عوامی مسائل سے پوری طرح واقف ہوں قوموں پر آزمائشیں آتی رہتی  ہےں لیکن ہم دفتر خارجہ میں تجربہ کار اور قابل افسران سمیت سینئر سفارتکاروں کے  تجربے سے استفادہ حاصل کریں گے کیونکہ ہمیں پاکستان کی عزت اور وقار کو سامنے رکھ کر آگے بڑنا ہے  شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ انہیں سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے بتایا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے عمران خان کو وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی ہے اور بھارت نے عمران خان کے ساتھ  مذاکرات کے آغاز کا پیغام بھی بھیجا ہے جو کہ مثبت پیشرفت ہے انہوں نے کہا کہ 5ستمبر کو  امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان کے دورہ پر آئیں گے تو اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان سے  مزید مشاورت  کروں گا لیکن مجھے امریکہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے سیکریٹری اسٹیٹ کونڈا لیزا رائس،سیکریٹری اسٹیٹ   ہےلریکلنٹن اور رچرڈ ہالبروک کے ساتھ کام کرچکا ہوں اور ان کی ترجیحات  اور تحفظات کو  بہتر طریقے سے جانتا ہوں  ان کی ترجیحات اور تحفظات سر آنکھوں پر لیکن میری قوم کی بھی توقعات اور ترجیحات  منسوب ہیں ہم  امریکہ کے ساتھ عزت اور احترام  کے ساتھ دو طرفہ تعلقات چاہتے ہیں  دونوں مملکوں میں اعتماد کی کمی ضرور ہے لیکن دونوں طرف سے مفاہمت کی ضرورت ہے ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ  ملک سے باہر جو سفارتکار جہاں پر کام کررہے ہیںعجلت میں کام لے کر اکھاڑ بچھاڑ کے سلسلے کا حامی نہیں ہوں عزت و احترام کو مدنظر رکتھے ہوئے کام کروں گا اور پی ٹی آئی کی حکومت تمام تقرر و تعنےاتےاںمیرٹ پر کرے گے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟