17 نومبر 2018
 بھارتی میجر سرینگر ہوٹل کیس میں مجرم قرار

 فوجی عدالت نے سری نگر کے ایک ہوٹل سے نوجوان لڑکی کے ساتھ گرفتار ہونے والے بھارتی میجر نتن گوگی کو مجرم قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ کشمیری میڈیا کے مطابق آرمی کورٹ آف انکوائری نے میجر نتن گوگی کو سری نگر ہوٹل کیس میں مجرم قرار دیدیا ۔ فوجی عدالت نے میجر گوگی کی فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کا حکم دیا ۔ فوجی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ میجر گوگی نے مقامی افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کا رشتہ قائم کرنے سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی کی اور وہ حراست کے وقت اپنی ڈیوٹی کے مقام سے دور پائے گئے تھے، جبکہ علاقے میں فوجی آپریشن بھی جاری تھا۔ یہ نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ عدالت کے حکم پر بھارتی فوج کے حکام  میجر نتن گوگی کے خلاف سزا کا تعین کر سکتے ہیں، جس میں انہیں ملازمت سے جبری ریٹائرڈ بھی کیا جاسکتا ہے یا پھر میجر نتن گوگی کا کورٹ مارشل بھی کیا جاسکتا ہے۔ رواں سال 30 مئی کو میجر گوگی سری نگر کے ایک ہوٹل میں نوجوان لڑکی کے ہمراہ پائے گئے تھے جس پر مقامی افراد نے ہوٹل کا گھیرائو کر لیا تھا ،تاہم ایس پی شمالی سری نگر نے مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر کے میجر گوگی اور لڑکی کو حراست میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں میجر گوگی کو ان کے یونٹ کے حوالے کر دیا گیا تھا جہاں ان کا ٹرائل کیا گیا۔ واضح رہے کہ میجر نتن گوگی مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے دستے  راشٹریہ ریفل کی 53 بٹالین کے متنازع ترین فوجی افسر ہیں۔ میجر گوگی نے گزشتہ برس اپریل میں ایک کشمیری نوجوان کو اپنی جیپ سے باندھ کر انسانی ڈھال بنایا تھا


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟