13 نومبر 2018
بھارتی ریاست ہریانہ میں پولیس کو مختلف بریانی میں گائے کا گوشت تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع میوات میں بریانی میں گائے کا گوشت چیک کرنے کے لئے ایک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ ہریانہ کاؤ سروس کمیشن کے چئیرمین بھانی رام منگلہ کا کہنا ہے کہ میوات میں گائے کے گوشت کے استعمال سے متعلق بہت سی شکایات موصول ہورہی تھیں، اس لئے پولیس کو بریانی چیک کرنے اور گوشت کے نمونے لیبارٹری میں بجھوانے کا حکم دیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم کے  افسران کے ہمراہ جانوروں کے ماہرین بھی ہوں گے۔

 

دوسری جانب میوات بار ایسوسی ایشن کے رکن اور مسلم رہنما نورالدین نور کا کہنا ہے کہ بریانی میں مٹن کی جگہ بیف کے استعمال کے الزامات بے بنیاد ہیں اورعلاقے میں بسنے والے تمام مذاہب کے افراد میں انتشار اور دوریاں پھیلانے کی سازش ہے۔ ضلع میں کافی عرصے سے بریانی فروخت ہورہی ہے اور کبھی بھی اس میں دھوکا دہی نہیں کی گئی لیکن پھر بھی اگر پولیس مطمئن ہونے کے لئے تفتیش کرنا چاہتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں گائے کو مقدس جانور تصور کیا جاتا ہے اور ریاست ہریانہ میں گائے کے گوشت پر پابندی عائد ہے جبکہ ریاست میں گائے کی اسمگلنگ اور ذبح پر نظر رکھنے کے لئے خصوصی رضا کارفورس بھی تشکیل دی گئی ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟