19 جون 2018
تازہ ترین
بنی گالا اور بلاول ہائوس ایک ہی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے، نواز شریف

 مسلم لیگ نواز شریف نے کہا ہے کہ شاہد خاقان نے کہا کہ آپ منصوبوں کا افتتاح کرنے ساتھ چلا کریں لیکن میں نے کہا کہ جو میرے ساتھ ہوا اس کے بعد منصوبوں کا افتتاح کرنے کا دل نہیں چاہتا۔ مسلم لیگ ن کے مرکزی جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف نے کہا  کہ سینیٹ الیکشن میں بنی گالا اور بلاول ہائوس ایک ہی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے، یہ جھوٹے، منافق اور چابی والے کھلونے ہیں، ان کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ آج ہم شہباز شریف کو نیا صدر منتخب کرنے آئے ہیں، یہ صورتحال پیدا کردی گئی ہے جس کے تحت یہ فیصلہ کرنا پڑا، 2013 میں مجھے کروڑوں ووٹ دیکر پاکستان کا وزیراعظم بنایا گیا لیکن 4 سال بعد کروڑوں ووٹ لینے والے وزیراعظم کو اچانک گھر بھجوادیا گیا، 4 سال صرف ملک کے مسائل کے بارے میں سوچا جب کہ ن لیگ اور شہباز شریف نے دن رات ایک کرکے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی کوشش کی۔ آج کہیں موٹرویز، کہیں سڑکوں کے منصوبے تو کہیں لوڈ شیڈنگ کے منصوبے ہیں، اگر کہیں ترقی ہو رہی ہے تو اس کو صدق دل سے تسلیم کیا جانا چاہیے، تاریخ کے صفحے دیکھیں سب پتہ چل جائے گا۔  پاکستان میں جس طرح پچھے 70 سال گزرے ہیں، اگلے 70 سال ایسے نہیں ہونے چاہئیں، میں کوشش کروں گا کہ اگلے 70 سالوں میں ایسا نہ ہو۔ آئندہ الیکشن میں ن لیگ کے منشور کے 4 الفاظ ہوں گے، ووٹ کوعزت دو، لاکھوں لوگ آج یہی نعرہ لگا رہے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو، ووٹ کو عزت دینے کا مطلب عوام کے مینڈیٹ کو عزت دو۔ میں صرف پاکستان اور آنے والی نسلوں کے لیے جدوجہد کرنا چاہتا ہوں، عوام 2018 کے الیکشن کو ریفرنڈم بنا دیں، میں آج اپنے کسی کیے کی سزا نہیں بھگت رہا، آج کوئی بتائے مجھے میں نے کہاں کرپشن کی ہے، مجھ پر کس چیز کے مقدمات ہیں کوئی بتائے مجھے، میرا ایجنڈا پاکستان کی ترقی ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے؟