26 ستمبر 2018
تازہ ترین
 بنگلہ دیش،نوجوان کی ہلاکت پرطلبا  کااحتجاج

 بنگلہ دیش کے دارالحکومت  ڈھاکہ میں تیز رفتار بس سے 2 نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد طلبا   کے مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیںٴجو عام انتخابات سے قبل حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی کا باعث ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طلبا   کا احتاج اس وقت شروع ہوا جب دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک بس نے موٹرسائیکل کو ٹکر ماردی، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔ پولیس حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ روز ہونے والے ٹریفک حادثے میں بس ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہےٴ تاہم نوجوان کی ہلاکت کے بعد مظاہرین نے ٹریفک کا نظام مکمل طور پر مفلوج کر دیا اور پرتشدد مظاہروں میں 317 بسیں نذر آتش کر دیںٴ جسے میں 51 افراد زخمی ہوگئے  ٴجنہیں فوری طبی امداد کیلئے قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اس سارے معاملے پر بنگلہ دیشی وزیر داخلہ اسد الزمان خان کا کہنا تھا کہ ٴہم نے طلبا   کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں گے اور پارلیمنٹ کے اگلے سیشن میں قانون کا مسودہ پیش کیا جائےگا۔ان کا کہنا تھا کہ  ہمیں ڈر ہے کہ یہ تحریک پرتشدد ہوسکتی ہے کیونکہ یہ حکومت کو کمزور کرنے کی ایک سازش ہے لیکن ہم نابالغوں کو اکسانے والوں کےخلاف سخت کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ثبوت ہے کہ اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی  بی این پی  نے اپنی طلبہ تنظیم کے کارکنان کو ان مظاہرین کےساتھ ملنے کا کہا تھا لیکن میں والدین پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو اس احتجاج سے دور رکھیں۔تاہم بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سڑک پر ہونے والے حادثات اور بڑے پیمانے پر شروع ہونے والے بحران کو حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے،لہٰذا حکومت کو فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔واضح رہے کہ اس سے قبل ایک نجی بس نے کالج کے طالب علم کو ٹکر ماری تھی،جس کے بعد سے ہزاروں طلبا  لاپرواہ بس ڈرائیوروں کےخلاف کارروائی کا مطالبہ لیے سڑکوں پر موجود تھے۔ بنگلہ دیش،نوجوان کی ہلاکت پرطلبا کا خون ریز احتجاج ڈھاکہ آن لائن  بنگلہ دیش کے دارالحکومت  ڈھاکہ میں تیز رفتار بس سے 2 نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد طلبا   کے مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیںٴجو عام انتخابات سے قبل حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی کا باعث ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طلبا   کا احتاج اس وقت شروع ہوا جب دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک بس نے موٹرسائیکل کو ٹکر ماردی، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔ پولیس حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ روز ہونے والے ٹریفک حادثے میں بس ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہےٴ تاہم نوجوان کی ہلاکت کے بعد مظاہرین نے ٹریفک کا نظام مکمل طور پر مفلوج کر دیا اور پرتشدد مظاہروں میں 317 بسیں نذر آتش کر دیںٴ جس کے نتیجے میں 51 افراد زخمی ہوگئے  ٴجنہیں فوری طبی امداد کیلئے قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اس سارے معاملے پر بنگلہ دیشی وزیر داخلہ اسد الزمان خان کا کہنا تھا کہ ٴہم نے طلبا  کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں گے اور پارلیمنٹ کے اگلے سیشن میں قانون کا مسودہ پیش کیا جائےگا۔ان کا کہنا تھا کہ  ہمیں ڈر ہے کہ یہ تحریک پرتشدد ہوسکتی ہے کیونکہ یہ حکومت کو کمزور کرنے کی ایک سازش ہے لیکن ہم نابالغوں کو اکسانے والوں کےخلاف سخت کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ثبوت ہے کہ اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی  بی این پی  نے اپنی طلبہ تنظیم کے کارکنان کو ان مظاہرین کےساتھ ملنے کا کہا تھا لیکن میں والدین پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو اس احتجاج سے دور رکھیں۔تاہم بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سڑک پر ہونے والے حادثات اور بڑے پیمانے پر شروع ہونے والے بحران کو حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے،لہٰذا حکومت کو فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔واضح رہے کہ اس سے قبل ایک نجی بس نے کالج کے طالب علم کو ٹکر ماری تھی،جس کے بعد سے ہزاروں طلبا  لاپرواہ بس ڈرائیوروں کےخلاف کارروائی کا مطالبہ لیے سڑکوں پر موجود تھے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟