22 اکتوبر 2019
تازہ ترین
بلے بازوں نے ذمہ داری اٹھائی تو ہی پاکستان جیت سکتا ہے: اقبال قاسم

بلے بازوں نے ذمہ داری اٹھائی تو ہی پاکستان جیت سکتا ہے: اقبال قاسم

نامہ نگار صبا ناز کو انٹرویو دیتے ہوئے ‎اقبال قاسم نے کہا کہ پاکستانی بیٹسمینوں کی سب سے بڑی کمزوری شارٹ پچ بولنگ اور باہر جاتی ہوئی گیندوں کو کھیلنا ہے اور بلے بازوں کو سیریز میں اس سے اجتناب کرنا ہوگا۔ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کے بعد ون ڈے سیریز بھی جیت لی کیا پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے 26 سالہ ریکارڈ کا دفاع کر سکے گا؟ انھوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم اس وقت تعمیرِ نو کے مرحلے میں ہے۔ ’ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں کارکردگی کو مدنظر رکھا جائے تو پاکستانی ٹیم تعمیرِ نو کے مرحلے سے گزر کر آگے بڑھ رہی ہے۔ کپتان مصباح الحق اور باقی کھلاڑی کافی تجربہ کار ہیں۔' ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو موقع ملا ہے کہ وہ پہلی بار ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیت سکے کیونکہ ویسٹ انڈین ٹیم خود بھی اس وقت مشکلات میں ہے۔' اقبال قاسم نے ٹیسٹ سکواڈ میں نوجوان لیگ سپنر شاداب خان کی شمولیت کو درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا 'ان کی شمولیت سے ٹیم مضبوط ہوئی ہے۔ انھیں ٹی ٹوئنٹی میں سیکھنے کا موقع ملا۔ اب اگر انھیں ٹیسٹ میچ میں کھیلنے کا موقع نہ ملا تو بھی اُن کے سیکھنے کا تجربہ مزید بہتر ہو گا۔' تصویر کے کاپی رائٹAFP ان کے مطابق شاداب خان میں اگر صلاحیت ہے تو انھیں کھیلنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ 'امکان ہے کہ کپتان دو رائٹ آرم لیگ سپنرز کھلانے کا چانس لے اور یہ ماضی میں بھی ہو چکا ہے۔' پاکستان کی جانب سے 50 ٹیسٹ میچوں میں 171 وکٹیں حاصل کرنے والے اقبال قاسم نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستانی ٹیم کی کمزوریوں پر اٹیک ضرور کرے گی تاہم یونس خان اور مصباح الحق کی موجودگی سے ان کمزوریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا 'مصباح الحق اور یونس خان کے جانے سے خلا ایک دن میں تو پورا نہیں ہو گا لیکن بابر اعظم، اسد شفیق اور محمد حفیظ جیسے کھلاڑیوں میں ٹیم کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔' انھوں نے نئے آنے والے کرکٹرز کو ٹیسٹ ٹیم میں کھلانے اور ان کی ٹریننگ پر زور دیا تا کہ مستقبل میں یہی نوجوان پرانے کرکٹرز کی جگہ لے سکیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟