12 نومبر 2018
بلڈ پریشر کا الزائیمر سے بچائو میں اہم کردار

بلڈ پریشر کو معمول پر محدود رکھنے سے دماغی صلاحیت اور یادداشت میں کمی کا خدشہ 19 فیصد اور ڈیمنشیا کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہوجاتا ہے شکاگو میں الزائیمر پر سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزائیمر ایسوسی ایشن سے وابستہ پروفیسر ہیدر سنائڈر نے کہا کہ ان کی تحقیق کے حتمی نتائج میں اگرچہ مزید کچھ برس لگ جائیں گے لیکن اب تک کے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ بلڈ پریشر کو صحتمند سطح پر رکھنا الزائیمر اور دیگر امراض سے بچائو میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت صرف امریکا میں ہی الزائیمر کے 50 لاکھ سے زائد مریض موجود ہیں اور ان میں سے دو لاکھ مریضوں کی عمر 65 سال سے کم ہے۔ اب تک یہ مرض لاعلاج ہے لیکن صحت مند انداز حیات اس کی رفتار کو کم کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں سسٹولک بلڈ پریشر انٹروینشن ٹرائل یا سپرنٹ نامی ایک بہت بڑا سروے کیا گیا ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر بلڈ پریشر 120 یا اس سے کم ہو تو فالج، امراض قلب، گردے کے امراض اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بہت حد تک کم ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے اب ماہرین نے صحت مند فشار خون کی شرح 120 یا اس سے کم رکھی ہے ورنہ پہلے یہ 140 تک تھی۔ اس مطالعے میں بلڈ پریشر کم رکھنے اور ڈیمنشیا کے درمیان تعلق کا بھی مطالعہ کیا گیا تھا۔ اس کےلئے 9361 افراد کو بھرتی کیا گیا جن کی اوسط عمر 68 تھی۔ ان میں سے نصف کا بلڈ پریشر کسی نہ کسی طرح 120 تک محدود رکھا گیا ، جبکہ دیگر نصف افراد کو بلڈ پریشر کا معیاری علاج فراہم کیا گیا، جسے سٹینڈرڈ تھراپی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے جن افراد نے اپنا بلڈ پریشر 120 یا اس سے کم رکھا تھا،  ان میں ڈیمنشیا اور الزائیمر کا کوئی امکان سامنے نہیں آیا اور ہائی بلڈ پریشر والے افراد میں ذہنی و دماغی انحطاط کی شرح زیادہ دیکھی گئی۔ اس طرح بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ بلڈ پریشر کی کمی کیلئے باقاعدہ ورزش، نمک کا کم استعمال اور سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بہت مفید ہوتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟