15 نومبر 2018
بلدیہ عظمیٰ کراچی ،27 ارب 16کروڑ کا بجٹ منظور

  سٹی کونسل کے اجلاس میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کا مالی سال 2018-19 کا 27 ارب 16کروڑ 4 لاکھ 68 ہزار روپے کا بجٹ اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کونسل میں بجٹ پیش کیا، اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، مشیر مالیات ڈاکٹر اصغر عباس شیخ موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کو متوازن اور حقیقت پسندانہ بنانے کے لئے غیر ترقیاتی اخراجات کو بڑھنے سے بچایا ہے اور زیادہ توجہ ترقیاتی فنڈز پر رکھی ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا مالی سال 2018-19  کا بجٹ ان تمام مسائل کا احاطہ کرے گا ،جن کی وجہ سے کراچی کے شہری ایک طویل عرصے سے مشکلات کا شکار ہیں،  انہوں نے کہا کہ مالی سال 2017-18 کے دوران ہم نے 4 ارب 32 کروڑ 71 لاکھ روپے کی لاگت سے 206 سکیمیں ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے تحت کراچی کے تمام اضلاع بشمول یونین کونسل کراچی میں مکمل کیں، یونین کونسل ترقیاتی پروگرام کے تحت مختلف اضلاع کی یونین کونسلز میں انفراسٹرکچر کی تعمیر ، مرمت اور بحالی سمیت مختلف منصوبوں پر ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے تحت کام کئے گئے۔ جن کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کے ممبران نے سفارش کی تھی گزشتہ مالی سال کے دوران مکمل کئے جانے والے ترقیاتی کاموں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ شہر میں بنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے اور شہر کے ہر علاقے میں مساوی ترقیاتی عمل جاری رہے 2018-19 کے لئے ہمارا بنیادی نظریہ غیر ضروری اخراجات میں کمی اور وسائل کے بہترین استعمال کے ذریعہ اپنے مسائل حل کرنا ہے، پرائم منسٹر کراچی پیکیج کے تحت بھی کراچی میں ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا ہے جو ہماری بڑی کامیابی ہے یہ 25 ارب ہماری محنت سے آئے ہیں۔ پرائم منسٹر کراچی پیکیج کے تحت منگھوپیر روڈ کی جام چاکرو سے بنارس چوک تک از سر نوتعمیر پر تخمینی لاگت 2 ارب 44 کروڑ روپے، سخی حسن، فائیو اسٹار اور کے ڈی اے چورنگی پر شیر شاہ سوری روڈ کے ساتھ فلائی اوورز کی تعمیر 2 ارب 38 کروڑ 60 لاکھ روپے، نشتر روڈ کی تین ہٹی تا نیپر روڈ از سرنو تعمیر اور منگھو پیر روڈ کی بنارس چوک سے نشتر روڈ تک ازسر نو تعمیر پر تخمینی لاگت ایک ارب 90 کروڑ روپے کے علاوہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں موجودہ فائر فائٹنگ سسٹم کی بحالی/ اپ گریڈیشن کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی مختلف ذرائع سے مالیاتی فنڈنگ کے حصول کے لئے تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے اور اس مقصد کے تحت یہ صوبائی حکومت، وفاقی حکومت، عالمی بینک اور نجی شعبے کے مالیاتی نظام سے فنڈز کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ جس سے امید ہے کہ آئندہ چند سال میں شہر میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو ترقی ملے گی، جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی میں مزید بہتری آئے گی، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے 2018-19 کے لئے مجوزہ بجٹ میں کل آمدن 27 ارب 17 کروڑ 97 ہزار روپے (27.170.097 ملین) جبکہ مجموعی اخراجات 27 ارب 16کروڑ 4 لاکھ 68 ہزار روپے (27.160.468 ملین) شامل ہیں  کل آمدن Current Receipts میں 19ارب 21 کروڑ 84 لاکھ 75 ہزار روپے (19.218.475ملین اور Capital Receipts ایک ارب 89 کروڑ 24 لاکھ روپے (1.892.400ملین) ہیں جبکہ فنڈز برائے پراونشل اے ڈی پی، ڈسٹرکٹ اے ڈی پی 6 ارب 5 کروڑ 92 لاکھ 22 ہزار روپے (6.059.222 ملین) ہیں۔ اسی طرح Establishment اخراجات 13ارب 31کروڑ 22 لاکھ 86 ہزار روپے (13.312.286ملین) اور Contingent 2 ارب 11کروڑ 2 لاکھ 10ہزار روپے (2.110.210 ملین) بحالی اور مینٹی نینس 21 کروڑ 71 لاکھ 65 ہزار روپے (217.165 ملین) جبکہ ڈیولپمنٹ پروجیکٹس کا تخمینہ 5 ارب 46کروڑ 15 لاکھ 85 ہزار روپے (5.461.585 ملین) اور پراونشل اے ڈی پی ، ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے لیے 6 ارب 5کروڑ 92 لاکھ 22 ہزار روپے (6.059.222ملین) اخراجات کا تخمینہ ہے، مالی سال 2018-19 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے اور موجودہ ریونیو ریکوری کو ہی مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ مالی سال 2018-19 کے بجٹ میں ترقیات کی مد میں ہم نے ساڑھے 11 ہزار ملین روپے سے زائد رقم مختص کی ہے جس میں کے ایم سی فنڈ سے ہم نے تقریباً ساڑھے 5 ارب روپے اور ڈسٹرکٹ اے ڈی پی اور پراونشل اے ڈی پی کی مد میں تقریباً 6 ارب روپے رکھے ہیں مالی سال 2018-19 میں 5 ارب 62کروڑ 90 لاکھ روپے کی رقم سے شہر بھر میں 194 نئی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی یہ ایک متوازن بجٹ ہے جس میں ہم نے اپنے غیرترقیاتی اخراجات کو کم سے کم سطح پر رکھا ہے اور زیادہ توجہ ترقیاتی فنڈز پر رکھی ہے تاکہ آئندہ مالی سال کے دوران زیادہ سے زیادہ ترقیاتی کام کرائے جاسکیں میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کو اس کا حق دلانے کے لیے عوام میں اپنا کیس لے کر گئے اور عدالتوں سے رجوع کیا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟