13 نومبر 2018
تازہ ترین
 بریسٹ کینسر کی شرح  میں خطرناک حد تک اضافہ

معروف جنرل سرجن و بریسٹ کینسر سپیشلسٹ ڈاکٹر روفینہ سومرو نے کہا ہے کہ ملک میں بریسٹ کینسر کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے،  مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں ہسپتال بھی کم ہیں اور ماہرین سرطان بھی کم ہیں، منفی طرز زندگی ہر قسم کے سرطان کے پھیلائو میں معاون ثابت ہو رہا ہے ۔ محتاط اعداد و شمار کے مطابق سالانہ چالیس ہزار خواتین اس موذی مرض کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن بیٹھی ہیں، دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں چالیس سال کی عمر میں خواتین میں بریسٹ کینسر کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جبکہ دیگر ممالک میں پچاس یا ساٹھ برس کی عمر میں مرض تشخیص ہوتا ہے اور بد قسمتی سے ہمارے ملک میں پچاس فیصد خواتین میں بریسٹ کینسر دوسرے مرحلے میں تشخیص ہوتا ہے، عمومی طور پر سرطان کی ابتدائی مراحل میں کسی قسم کی کوئی تکلیف ظاہر نہیں ہوتی  اس لئے مریض بھی معالج سے رجوع نہیں کرتے مگر جب یہ مرض تکلیف کا باعث بنتا ہے تو اس وقت زیادہ تر کیسز میں دوسرے یا پھر آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہوتا ہے ، پاکستان میں معالج کبھی بھی صرف میمو گرم کی بنیاد پر کیمیو تھراپی شروع نہیں کرتا بلکہ بائیو ہاپسی کے بعد ہی کیمیو تھراپی کا فیصلہ کیا جاتا ہے ، بریسٹ کینسر آہستہ آہستہ بڑھتا ہے پھر گلٹی کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو باقاعدہ محسوس بھی ہوتا ہے،  دنیا بھر میں بریسٹ کینسرز کے پچاس فیصد کیسز ابتدائی مراحل میں تشخیص ہو جاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں یہ شرح دس فیصد سے بھی کم ہے کیونکہ تشخیص تاخیر سے ہوتی ہے،  اس لئے معالج کے لئے علاج کرنا بھی ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ اگر گلٹی کا حجم بہت چھوٹا ہے تو بریسٹ نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی مگر جب گلٹی کا حجم بڑھ جائے تو پھر بریسٹ محفوظ کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور سرجری کرنی پڑتی ہے جو کسی بھی خاتون کے لئے انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟