23 ستمبر 2018
تازہ ترین
برانڈ کا پانی غیر محفوظ

۔ ان میں سے زیادہ تر کمپنیو ں کے بوتل کے پانی میں آرسینیک کی مقدار حد سے زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔ جب کہ بعض کمپنیو ں کے پانی میں مائیکرو بیالوجیکل بیکٹریا پایا گیا ہے جب کہ بعض برانڈ کے پانی میں سوڈیم اورپوٹاشیم کی مقدار مقررہ حد سے خطرناک حد سے زیادہ پایا گیا ہے۔ جس کی تصدیق پی سی آر ڈبلیو آر کی ر پو رٹ میں کی گئی ہے ۔تحقیق کرنے والے سرکاری ادارے پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی رپو رٹ کے مطابق پاکستا ن کے بڑے شہروں جن میں لاہور، پشاور، کرا چی، اسلام آباد، کوئٹہ وغیرہ شامل ہیں سے مختلف کمپنیوں کے برانڈ کی بوتلوں میں بند پانی کے 124 نمونہ جا ت حاصل کئے گئے اور ان کا تجزیہ کیا گیا جس میں 42 برانڈ کا پانی غیر محفوظ قرار دیا گیا۔  زیادہ تر بوتلوں کے آرسینک یعنی "سینکھیا" پایا گیا ہے اس کی علاوہ م بیکٹریا اور سوڈیم اور پوٹاشیم کی مقدار ضرورت سے زیادہ پائی گئی ۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟