24 ستمبر 2018
تازہ ترین
بارودی سرنگیں ڈھونڈنے والی شہد کی مکھیاں

 یوگو سلاویہ میں تربیت یافتہ مکھیوں نے کامیابی کے ساتھ بارودی سرنگوں کو شناخت کیا ، جس کے بعد دنیا بھر میں چھپی موت کی ان مشینوں کو تلف کرنے میں مدد ملے گی۔ 1990 کے عشرے میں ہونے والی بلقان کی جنگوں میں بچھائی جانے والی بارودیں سرنگیں اب بھی انسانوں کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں جنہیں پہلی مرتبہ تربیت یافتہ شہد کی مکھیوں سے شناخت کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ مکھیاں بغیر پھٹے خطرناک بموں کو بھی سونگھ سکتی ہیں۔ اس طرح کم خرچ طریقے سے بہت طویل عرصے تک بارودی سرنگوں کی شناخت اور انہیں ناکارہ بنانے میں مدد مل سکے گی۔ بعض حالات میں مکھیاں سونگھنے والے کتوں سے بھی زیادہ موثر ثابت ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر روس سکاٹ لینڈ  میں واقع سینٹ اینڈریو یونیورسٹی میں ماہر طبیعیات ہیں۔ شہد کی مکھیوں کی تربیت کا سہرا ڈاکٹر روس گیلانڈر کے سر ہے جنہوں نے مکھیوں کو اس قابل کیا کہ وہ بارودی سرنگیں کھوج سکیں۔ شہد کی مکھی جب بارودی سرنگ شناخت کر لیتی ہے تو اس مقام پر ڈرون بھیج کر اس کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اولین کامیابیوں کے بعد سابق یوگو سلاویہ سے الگ ہونے والے ملک کروایشیا میں ان کی آزمائش کی جارہی ہے جہاں اب بھی زمین میں دبی لاکھوں بارودی سرنگیں موجود ہیں۔ نیٹو کے سائنس برائے امن و سلامتی پروگرام کے تحت مقامی مکھیوں کی افزائش اور باقاعدہ تربیت کا کام گزشتہ برس نومبر میں شروع کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر روس نے اپیس میلی سیرا کارنیکا نامی شہد کی مکھیوں کو اس کام کے لئے منتخب کیا ۔ مکھیوں کو دو دن تک مشہور بارود ٹی این ٹی کے اوپر شہد رکھ کر تربیت دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر روس کہتے ہیں کہ ٹی این ٹی کی شناخت میں انہیں شہد کا انعام دے کر تربیت دی جاتی ہے اور دو دن کی تربیت کے بعد انہیں چھتوں سے بارودی سرنگوں کی جانب روانہ کیا جاتا ہے تو وہ بارود والی سرنگوں پر جمع ہوتی ہیں۔ تاہم تین روز کام کرنے کے بعد مکھیاں جان جاتی ہیں کہ انہیں کوئی انعام نہیں دیا جارہا اور اس کے بعد دوبارہ مکھیوں کو تجربہ گاہ میں بارود پر شہد رکھ کر تربیت دی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہاں ڈرون بھیجے جاتے ہیں جو چند میٹر اوپر رہ کر منڈلاتے رہتے ہیں اور ڈرون کی ویڈیو سے کسی مقام پر بارودی سرنگ کی موجودگی یقینی بنائی جاتی ہے۔ اس طرح کروایشیا میں پی ایم اے ٹو اور پی ایم اے تھری اقسام کی بارودی سرنگوں کو شناخت کیا گیا ، تاہم بہت تیز ہوا، بارش اور اندھیرے میں مکھیاں کام نہیں کر سکتیں پھر بھی ماہرین نے اس عمل کو بہت موثر اور کم خرچ قرار دیا ۔ دنیا بھر میں بارودی سرنگوں سے ہر سال 15 سے 20 ہزار افراد ہلاک ہورہے ہیں اور معذور ہونے والوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟