16 نومبر 2018
 آوازوں سے اندازہ لگا کر ویڈیو گیم کھیلنے والا نابینا شخص

 ویڈیو گیم کھیلنے کے لئے ہر وقت سکرین پر متوجہ ہونا ضروری ہوتا ہے، اسی بنا پر آنکھیں بند کرکے ویڈیو گیمز کھیلنا ممکن نہیں،  لیکن ہالینڈ کے ایک نابینا گیمر صرف آوازوں کی مدد سے انتہائی مہارت سے گیم کھیلتے ہیں اور اب وہ سٹریٹ فائٹر گیم کے ماہر ہوچکے ہیں۔ سوین وان ڈی ویگے مشہور گیم سٹریٹ فائٹر میں انتہائی مہارت رکھتے ہیں اور اس گیم میں وہ آنکھوں والوں کو بھی مات دیتے نظر آتے ہیں۔ ان کی مہارت دیکھ کر ماہر گیمر بھی انگشت بدنداں ہیں۔ اب وہ دنیا بھر میں ویڈیو گیم کے نابینا ماہر کی حیثیت سے مشہور ہوچکے ہیں۔ انہیں نابینا جنگجو سوین کا نام دیا گیا ، جو اپنی ذہانت بھرے اور محتاط انداز سے ایک ایسے پروفیشنل گیمر بن چکے ہیں جنہیں دیکھ کر دنیا حیران رہ گئی ہے۔ چھ برس کی عمر میں ان کی آنکھیں سرطان کی وجہ سے بےنور ہوگئی تھیں جس کے بعد وہ آوازوں سے اندازہ لگا کر سٹریٹ فائٹر گیم کھیلتے تھے۔ وہ پرعزم تھا لیکن اس کے لئے بہت صبر اور نظم و ضبط کی ضرورت تھی ۔ سب سے پہلے سوین نے سٹریٹ فائٹر ٹو کھیلنا شروع کیا اور وہ بھی صرف گیم کی آواز کو سن کر جس میں بہت وقت لگا۔ دھیرے دھیرے وہ اس گیم کے ماہر ہوتے گئے۔ 2017 میں ان کی مہارت اس وقت عروج پر دیکھی گئی جب سپین کے شہر میڈرڈ میں سونک بوم ٹورنامنٹ میں انہوں نے عالمی شہرت یافتہ گیمر موساشی کے ساتھ گیم کھیلا ۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے اپنے پسندیدہ سٹریٹ فائٹر کین کو منتخب کرکے موساشی کو تین میں سے دو گیمز میں ہرا دیا۔ اس کے بعد سوین کو بین الاقوامی شہرت ملی۔ ماہرین کے مطابق ہمارے دماغ کا جو حصہ بینائی کو پروسیس کرتا ہے، وہی آواز کو بھی محسوس کراتا ہے۔ جب دماغ نہیں دیکھ پاتا تو دماغ کی اضافی قوت آواز سننے اور اسے سمجھنے میں صرف ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ سوین مخالف کے وار سن کر اپنا دائو کھیلتے ہیں اور آنکھوں والے اس صلاحیت سے قاصر رہتے ہیں۔ سوین نے ایک فنڈ قائم کیا ہے جس کے ذریعے وہ کسی نہ کسی معذوری کے شکار افراد کو گیم کھیلنے اور باصلاحیت بنانے میں مدد کریں گے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟