17 نومبر 2018
تازہ ترین
آلودگی سے پودے خشک سالی کے شکار

سائنس دانوں نے تجربے کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ آلودگی کے ذرات پودوں اور درختوں میں بنیادی تبدیلی لاکر انہیں خشک کر رہے ہیں اور وہ تیزی سے خشک سالی کے شکار ہورہے ہیں۔ جرمن ماہر ڈاکٹر ہیورگن برخارٹ نے کئی برس کی محنت کے بعد کہا ہے کہ آلودگی کے ذرات سے پتوں کے مسام ضرورت سے زائد پانی خارج کرتے ہیں اور تیزی سے سوکھنے لگتے ہیں، اس طرح دھیرے دھیرے پودے اور درخت ختم ہورہے ہیں اور یہ عمل دنیا بھر میں جاری ہے اور اب بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ آلودگی اور پودوں کی تباہی کے درمیان گہرا تعلق ضرور ہوتا ہے اور اب بون یونیورسٹی کے ماہرین نے اسے سائنسی طور پر ثابت کر دکھایا ۔ حال ہی میں افریقہ میں بائو باب کے قدیم ترین درخت ختم ہوئے ہیں اور ان کی اچانک موت نے بہت سارے ماہرین کو حیرانی میں مبتلا کر دیا ہے اور ڈاکٹر ہورگن نے خشک اور گرم موسم کو قرار دینے کے ساتھ آلودگی کو بھی اس کا ذمہ دار قرار دیا ۔ پودے اور درخت اپنے پتوں پر موجود چھوٹے چھوٹے مساموں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اس سے اپنی غذا بناتے ہیں لیکن اس عمل میں ان کے مساموں سے پانی بھی اڑتا رہتا ہے اور خشک سالی میں ایک پودا خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور یوں اس کے پانی کا ذخیرہ ختم ہونے لگتا ہے۔ اگرچہ پودے اس توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا اور یوں درخت اور پودے سوکھ کر ختم ہونے لگتے ہیں۔ پروفیسر ہیورگن نے تجربہ گاہ میں پائن اور شاہ بلوط اور دیگر درختوں کی کونپلوں کو مختلف ماحول ، ہوا، نمی اور دیگر کیفیت میں رکھا، ان میں سے صاف ماحول میں رکھے ہوئے پودے بالکل درست کام کرتے رہے لیکن جیسے ہی ان کا سامنا آلودگی سے ہوا ان کے مساموں سے نمی خارج ہونے کا سلسلہ متاثر ہوا اور وہ تیزی سے خشک ہونے لگے۔ ڈاکٹر ہیورگن کے مطابق عموماً اس کی وجہ سامنے نہیں آتی لیکن تجربہ گاہ میں محتاط مطالعے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ آلودگی پودوں اور درختوں کی دشمن ہے جو انہیں دھیرے دھیرے خشک کر رہی ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟