20 جون 2019
تازہ ترین
آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوگا، اسد عمر

آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوگا، اسد عمر

وزیر خزانہ اسد عمر نے پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے  کے درمیان معاملات طے پانے کی تصدیق کردی۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دورہ امریکا میں آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دنیا کے بڑے سرمایہ کاروں سے ملاقات ہوئی، آئی ایم ایف کے ساتھ اصولی اتفاق ہوگیا ہے، آئی ایم ایف کا وفد اپریل کے آخری ہفتے میں پاکستان آئے گا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے فوراً بعد ورلڈ بینک اور ایشیاتی ترقیاتی بینک سے فنڈ ملیں گے، زرمبادلہ ذخائر پر 2016 سے جاری دبا¶ کم ہوجائے گا اور ذخائر بڑھیں گے۔  معاشی اصلاحات پر کام ہورہا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے بعد کیپیٹل مارکیٹ کی حالت بہتر ہوگی، معاشی استحکام نظر آئے گا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ دورہ امریکا کے دوران ایف اے ٹی ایف کے صدر سے ملاقات ہوئی، بھارت کے رویے کے بارے میں ان سے خدشات کا اظہار کیا ہے، ایف اے ٹی ایف کے صدر نے یقین دہانی کرائی کہ فیصلے تکنیکی بنیادوں پر ہوں گے۔آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط کا عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا، آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوگا، معاہدے کے بعد ساڑھے 7 ارب عالمی مالیاتی بینک سے آئیں گے، ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے آنے والی امداد اس کے علاوہ ہوگی جب کہ آئی ایف سی سے بھی فنڈ دستیاب ہوں گے۔ اسد عمر نے مزید کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوگا، پاکستان جلد ہی بانڈ جاری کرے گا، کیپیٹل مارکیٹ اس وقت مثبت ہے، شرح سود 9 سے کم ہوکر7 فیصد پر آگئی ہے۔  آج ایف اے ٹی ایف کو ان کی سفارشات پر عملدرآمد کا مسودہ بھجوادیں گے، مسودے پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے ایف اے ٹی ایف کا وفد مئی کے تیسرے ہفتے پاکستان آئے گا۔  گزشتہ حکومت کے دور میں توانائی شعبے کے 600 ارب روپے کو بہرحال کہیں سے پورا کرناہے، حکومت کا بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں،  ن لیگ کے دور میں پیدا ہونے والی بجلی کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن نیپرا کررہی ہے۔ استعفے سے متعلق سوال پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکل۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟