ایک ہی خاندان کے 4بچے پتھریلی جلد کا شکار

 سجاول سے شہر قائد آنے والے غریب محنت کش کے 4 بچے ایک کمیاب مرض کے شکار ہیں اور ان کے ہاتھوں اور پیروں کی جلد سخت ہوکر پتھرا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق 19 سالہ حبیب اللہ بھٹی، 15 سالہ مہرالنسا، 10 سالہ نصیب اللہ بھٹی اور 6 سال کی بیٹی خیرالنسا ایپی ڈرمولائٹک ہائپر کیرا ٹوسس کے شکار ہیں جس میں ہاتھوں اور پیروں کی جلد سخت ہوتی جاتی ہے, یہ مرض دنیا میں دو لاکھ میں سے کسی ایک فرد کو لاحق ہوسکتا ہے۔ ان بچوں کی ہتھیلیوں اور پائوں کے تلووں کی جلد بڑھ کر سخت ہوچکی ہے جس سے ان بچوں کو شدید تکلیف ہوتی ہے یہاں تک کہ یہ بچے چپل اور سینڈل پہننے سے بھی قاصر ہیں۔ ڈاکٹروں نے اس مرض کو لاعلاج قرار دیا ہے جس سے بچوں کے والد نذیر بھٹی اور والدہ عابدہ علی بہت پریشان ہیں۔ تین سال قبل خیرالنسا کے پیروں پر نئی جلد اگنے لگی تھی جو اگلے دو تین ماہ میں ٹھوس ہوتی گئی اور اس میں تکلیف بڑھتی گئی۔ والدین نے بچی کا روحانی علاج کرایا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا اور اس کے بعد باقی تینوں بچے بھی اسی مرض میں مبتلا ہوئے۔ طبی تاریخ کے مطابق یہ پیدائشی مرض ہے اور اس گھر کے تین بچے ایسے ہیں جنہیں یہ مرض لاحق نہیں۔ یہ خاندان سجاول سے آیا ہے جہاں سردیوں میں بھی اس کے شکار بچے چل پھر نہیں سکتے  اور یہاں تک کہ موزے بھی نہیں پہن سکتے۔  بعض اوقات ان بچوں کی تکلیف اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ہر گھنٹے بعد ان کی ہاتھ اور پیروں پر پانی ڈالا جاتا ہے۔ والدین نے بچوں کی اس کیفیت کے لیے کئی ڈاکٹروں کو دکھایا لیکن کہیں سے بھی افاقہ نہ ہوسکا اور مرض بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ بچوں کا غریب والد مشکل سے روزانہ 500 روپے کما پاتا ہے اور اسی لیے بچوں کا علاج کرانے سے بھی قاصر ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟