20 ستمبر 2018
   ایک اور کشمیری شہید ، اسمبلی میں احتجاج

۔ آخری اطلاعات موصول ہونے تک علاقے میں سرچ آپریشن جاری تھا ۔  پہلگام میں تین مبینہ مجاہدین کی شہادت کے بعد وادی میں شروع ہونے والی کشیدگی تیسرے روز بھی برقرار رہی  اس دوران مزاحمتی قیادت کے کلینڈر میں احتجاج میں ڈھیل کے باوجود مختلف علاقوں میں لوگوں نے احتجاج کیا  اور جلوس نکالے ،مظاہرین اور قابض فورسز کے درمیان  پتھراؤ اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں 10افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد کو گرفتار کئے جانے کی اطلاعات ہیں ،کشیدگی کے بیچ متعدد علاقوں میں نیم کرفیو برقرار،نورباغ کے 14سالہ لڑکے   کی  پبلک سیفٹی  ایکٹ کے  تحت گرفتاری کےخلاف انجینئر رشید کا نام نہاد اسمبلی میں ہنگامہ ،ایوان شرم کرو حیا کر کے نعروں سے گونج اٹھا، وادی میں کٹھ پتلی حکومت   اور  فوج عام شہریوں کے خلاف بر سر جنگ،14سالہ بچے اور 86سالہ بزرگ کی گرفتاری پر حریت کانفرنس بھی برہم ،سید علی گیلانی نے  مجلس شوریٰ کا اجلاس 22جنوری کو طلب کر لیا،مسرت عالم  کی ضمانت پھر منظور جبکہ  فورسز کی جانب سے پیلٹ گن کا نشانہ بن کر  بینائی سے محروم ہونے والے 10فیصد افراد خستہ حالی کا شکار ہیں  جنھوں نے علاج معالجہ ترک کر دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق  مقبوضہ کشمیر میں پیر کی صبح تین مقامی نوجوانوں کی شہادت کے بعد تیسرے  روز بھی حالات کشیدہ رہے ۔وادی میں مزاحمتی قیادت کی جانب سے جاری  کلینڈر میں ہڑتال اور احتجاج میں ڈھیل کے باوجود تعزیتی ہڑتال کے باعث نظام زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔ بجبہاڑہ ، سلر ،کلر،سریگفوارہ، زر پارہ،کنلون، آرونی ،سگی پورہ اور دیگر علاقوں میںدکانیں ، کاروباری ادارے بند رہے اور گاڑیاں بھی سڑکوں پرنظر نہیں آئیں۔ان علاقوں میں  لوگوں نے احتجاج کیا  اور جلوس نکالے ،مظاہرین اور قابض فورسز کے درمیان  پتھراؤ اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں 10افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد کو گرفتار کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ادھر وادی میں 9جولائی 2016سے 12دسمبر 2016تک فورسز اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے چلائے گئے پیلٹ سے زخمی ہونے والے1008نوجوانوںسے 108نوجوانوں نے مالی حالت خراب ہونے کی وجہ سے علاج و معالجہ ادھورا چھوڑ دیا ہے۔ پیلٹ سے زخمی ہونے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ مہنگی ادویات اور دیگر اخراجات ایک لمبے عرصے تک برداشت نہیں کرسکتے اور اسلئے وہ آنکھوں کا علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ آنکھوں سے متاثر ہوئے نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد نے غربت کی وجہ سے آنکھوں کی بینائی بحال کرنے کیلئے جاری علاج ومعالجہ ادھورا چھوڑ دیا ہے۔ شمالی کشمیر کے سوپور قصبے سے تعلق رکھنے والے 14سالہ فردوس احمد نے بتایا  15جولائی کو آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے کے بعد ابتک علاج ومعالجہ کا سلسلہ جاری ہے۔  صدر ہسپتال میں شعبہ چشم کے ایک ماہر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ او پی ڈی میں ہر پندرہ دن کے بعد پیلٹ سے آنکھوں کی بینائی کھونے والے یا زخمی ہونے والے نوجوانوں کو اسلئے ہر پندرہ دن بعد اسپتال آنے کیلئے کہا جاتا ہے تاکہ سردی سے آنکھوں کو ہونے والے انفیکشن سے ایسے نوجوانوں کو بچایا جاسکے۔ مذکورہ ڈاکٹر نے کہا کہ مالی حالت خراب ہونے کی وجہ سے تقریبا10فیصد نوجوانوں نے علاج و معالجہ بند کیا ہے۔  


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟