28 مئی 2020
تازہ ترین
 ایٹم بم کیلئے قذافی نے 50کروڑ ڈالر کراچی پہنچائےٜ سی آئی اے

 ایٹم بم کیلئے قذافی نے 50کروڑ ڈالر کراچی پہنچائےٜ سی آئی اے

 سی آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر نے اس وقت کی امریکی حکومت کو پاکستان کی جانب سے پلوٹونیم کشید کرنے والے ری پراسیسنگ پلانٹ کے بارے میں خبردار کیا تھا، میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ باتیں بین الاقوامی انٹیلیجنس پر امریکی صدر کو مشاورت فراہم کرنے والے سی آئی اے کے شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے نومبر 1982 میں امریکہ  پر اثر انداز ہونے والے عالمی واقعات نامی رپورٹ میں کیں۔ پاکستان کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے ذیلی عنوان میں یہ دستاویز اس وقت پاکستان کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں امریکی حکام کی معلومات کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور پھیلاؤ سے متعلق عوام میں جاری کی گئی ایک اور دستاویز ٴٴ ورلڈوائڈ رپورٹٴٴ میں جولائی 1981 کی ایک جرمن اخباری خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ کس طرح جرمن سائنسدانوں، اور اس وقت کے لیبیا کے حکمران قذافی نے خفیہ طور پر پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے میں مدد دی تھی۔ مضمون میں تین جرمن اور چار پاکستانیوں، بشمول ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار کی ملاقات کا بھی ذکر ہے۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ قذافی اور بھٹو نے اسلام آباد میں ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کے مطابق لیبیاکے فراہم کردہ فنڈز سے پاکستان ایٹم بم تیار کرے گا، جبکہ بدلے میں لیبیا کو تیار شدہ ایٹمی ہتھیار ملیں گے۔ مضمون میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ قذافی نے پی آئی اے کے طیاروں کے ذریعے 50 کروڑ ڈالر کراچی پہنچائے۔  


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟