25 اپریل 2018
تازہ ترین
 ایوارڈز واپس لے لو روٹی دیدو، بشیربلوچ

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار بشیر بلوچ نے شدید مالی مشکلات میں مبتلا ہونے کے بعد اپنے 100 سے زائد ایوارڈز واپس دے کر دو وقت کی روٹی کا مطالبہ کر دیا۔ گلوکار بشیر بلوچ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور چاروں صوبوں کے وزرا  اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ میں نے 56 سال تک فن کی خدمت کی، لیکن ثقافتی اداروں کی عدم توجہی کے باعث آج مالی مشکلات سے ایسا دو چار ہوں کہ ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ حالانکہ مجھے حکومت پاکستان کی جانب سے دو مرتبہ صدارتی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی دیگر اہم حکومتی ایوارڈ ز جیتے۔ میں نے اپنی زندگی کے اتنے برس فن کی خدمت کی اور8 زبانوں میں پرفارم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب میری عمر 70 برس ہوچکی ہے اور ثقافتی ادارے کی جانب سے مجھے 3 ہزار روپے کا وظیفہ دیا جاتا تھا ،جو اتنا کم ہے کہ اس سے گزارہ کرنا ممکن نہیں، مگر اب وہ بھی بند کر دیا گیا ۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں 23مارچ کے حوالے سے ہونے والے پروگراموں میں دوسرے شہروں سے فنکاروں کو بھاری معاوضہ ادا کرکے پرفارمنس کا موقع دیا جاتا ہے، لیکن ہمیں مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ایسے میں، مجھ سمیت بہت سے فنکار فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ گلوکار نے وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزرا  اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ مجھ سے میرے تمام  ایوارڈز واپس لے لئے جائیں اور میری مالی امداد کی جائے ،تاکہ میں اپنی فیملی کو 2 وقت کی روٹی کھلا سکوں۔ میری امداد کیلئے اقدامات کئے جائیں۔


عوامی سروے

سوال: آپ کے خیال میں پاکستان کا اگلا وزیراعظم کون ہونا چاہیے؟