15 نومبر 2018
 این آر او کیس،لیڈروں کے سر سے تہمتیں ختم کرنا چاہتے ہیں،چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے این آر او کیس میں ریمارکس دیئے کہ کیا پرویز مشرف صرف اپنی تنخواہ سے دبئی میں فلیٹ خرید سکتے تھے۔ سپریم کورٹ میں این آر او کیس کی سماعت ہوئی۔  عدالت نے پرویز مشرف سے غیر ملکی اثاثوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہاکہ سابق آرمی چیف دس دن میں اپنی اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیلات بھی دیں۔ پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ مشرف کے پاس دبئی میں فلیٹ ہے، ایک اکائونٹ میں 92 ہزار درہم ہیں، ان کے پاس جیپ اور مرسڈیز سمیت تین گاڑیاں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مشرف کو سنا ہے سعودی عرب سے تخائف ملے، کیا مشرف ساری زندگی کی تنخواہ سے بھی فلیٹ خرید سکتے تھے، ان سے کہیں عدالت آ کر خود وضاحت دیں۔ وکیل نے کہا کہ مشرف کے غیر ملکی اثاثے صدارت چھوڑنے کے بعد کے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا لیکچر دینے سے اتنے پیسے ملتے ہیں، کیوں نہ میں بھی ریٹارمنٹ کے بعد لیکچر دوں، چک شہزاد فارم ہائوس کس کا ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ چک شہزاد فارم ہائوس بھی پرویز مشرف کا ہے۔ چیف جسٹس نے آصف زرداری کا بیان حلفی لیک ہونے پر اپنے عملے کو طلب کر لیا۔ آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ آصف زرداری 9 سال جیل میں رہے مگر کچھ ثابت نہیں ہوا اور تمام مقدمات میں باعزت بری ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فی الحال صرف الزامات کا جواب لے رہے ہیں، اگر کوئی الزام غلط ہوا تو آصف زرداری کلئیر ہو جائیں گے، ہم سیاسی رہنمائوں کے سر سے تہمتیں ختم کرنا چاہتے ہیں، عوام کو اپنے لیڈروں پر بد اعتمادی نہیں ہونی چاہیے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟