21 اپریل 2019
تازہ ترین
این آر او کے بعد کرپٹ لوگ بے خوف ہوگئے تھے، وزیراعظم

این آر او کے بعد کرپٹ لوگ بے خوف ہوگئے تھے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ این آر او ون اور این آر او ٹو کے بعد کرپٹ لوگوں کا خوف ختم ہوگیا تھا کہ وہ پکڑے جائیں گے۔ لائیو ریلوے ٹریکنگ سسٹم اور تھل ایکسپریس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10سالوں میں لوگوں نے بلاخوف چوریاں کیں، 10سال میں ملکی قرضہ 30 ہزار ارب ڈالر تک جا پہنچا، اور ماضی کی حکومتوں نے جو قرضے لیے اس کے باعث ہماری حکومت ایک دن کا سود 6  ارب روپے ادا کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ این آر او ون اور این آر او ٹو کے بعد کرپٹ لوگوں کا خوف ختم ہوگیا تھا کہ وہ پکڑے جائیں گے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا، ہر ادارے میں کرپشن کے کیسز نیب کو بھجوائیں گے، اس طرح لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا ہوگا اور کرپشن کرتے ہوئے سوچیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ حج پر سبسڈی دینے کی بات کرنے والے بتائیں کہ انہوں نے ملکی خزانے میں چھوڑا کیا ہے، اگر حالات اچھے ہوں تو ہم حج پر جانے والوں کو مفت بھیجیں، لیکن ماضی میں ہر علاقے اور ہر ادارے میں چوری اور کرپشن ہوئی، اور اب سوچنا پڑتا ہے کہ کس ادارے پر کتنے پیسے خرچ کئے جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا شور مچایا جاتا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا ہے کہ گیس کی قیمت اس لئے بڑھائی گئیں کہ گیس سیکٹر پر 157 ارب روپے کے قرضے ہیں اور بینکوں نے اسے مزید قرضے دینے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ 50  ارب روپے کی گیس چوری بھی کی جاتی ہے، گیس کی قیمتیں نہ بڑھاتے تو گیس کمپنیاں بند ہو جاتیں۔ وزیراعظم  نے کہا کہ ہم نے کرپشن کو روکنا ہے چوری ختم کرنی ہے اور اپنے اخراجات کو کم کرنا ہے،  پہلے وزیراعظم ہائوس میں کھانے کھلائے جاتے تھے لیکن اب صرف چائے اور بسکٹ سے ہی تواضع کی جاتی ہے، اور وزیراعظم ہائوس کے خرچے 30 فیصد کم کر دیئے گئے ہیں۔ اپنے ہر وزیر سے کہا ہے کہ وہ بھی اپنے اخراجات میں 30  فیصد نہیں تو کم از کم 10 فیصد کمی ضرور لائیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹرین عام آدمی کا سفر ہے، ماضی میں تمام سہولتیں امیروں کو ہی فراہم کی گئیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ نئے پاکستان میں لوگوں کو غربت سے نکالیں، اور اپنے ریلوے سسٹم کو بہت آگے لے کر چلیں، چین اس حوالے سے بہت آگے ہے، چاہتے ہیں چین سے ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کریں۔ پہلے سی پیک ایک سڑک ، چار پاور اسٹیشنوں کا نام تھا، اب سی پیک کے تحت چین کے ساتھ متعدد شعبوں میں کام کریں گے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟