ایمنسٹی سکیم،فائدہ اٹھانے والوں میں غیر معمولی کمی

 سابقہ حکومت کی متعارف کردہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی مقبولیت دم توڑ رہی ہے اور ملک میں اور بیرون ملک موجود اثاثوں کو معمولی ٹیکس کی ادائیگی کے بعد قانونی بنانے کا عمل سست پڑ چکا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یکم جولائی کے بعد سے اثاثے ظاہر کرنے کے رجحان میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی،اور 19 جولائی تک محض 2 ہزار کیسز موصول ہوئے،ا س کےساتھ ہی ظاہر کیے گئے اثاثوں کی مالیت بھی کوئی خاص غیر معمولی نہیں رہی جن پر صرف 3 ارب روپے ٹیکس ادا کیا گیا۔ٹیکس حکام کا کہنا ہے کہ سکیم ختم ہونے کے بعد چیف کمشنرز پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائےگی جو پاکستانی شہریوں کی برطانیہ میں موجود املاک سے حاصل ہونے والی آمدنی کی جانچ پڑتال کرے گی اور جنہوں نے اثاثے ظاہر نہیں کیے انہیں نوٹسز جاری کیے جائیں گےِ،تاہم جنہوں نے اسکیم سے فائدہ اٹھالیا وہ ان نوٹسز سے مستثنیٰ رہیں گے،جبکہ یہی سلسلہ پاکستانیوں کی دبئی میں موجود جائیدادوں کے لیے بھی دہرایا جائےگا۔دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اس حوالے سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی اپنی کوششوں میں اضافہ کردیا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟