20 نومبر 2018
تازہ ترین
پاکستان کو بلیک لسٹ سے نکالنے کی حکمت عملی تیار

نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ نگران حکومت نے پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے نکالنے کے لئے کئی پالیسی اقدامات کئے ہیں جس کے مثبت نتائج آئے ہیں اور ایف اے ٹی ایف کے ممبران کو پاکستان کا موقف سمجھنے میں مدد ملی ہے۔  ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان کے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2008  سے 2012  کے دوران بھی پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں رہا ہے۔ حال ہی میں عالمی سیاست کے تناظر میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ نے پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی مختلف وجوہات ہیں تاہم موجودہ نگران حکومت نے ان مسائل کے حل کے لئے جامع حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے پاکستان کا نام نکالنے کے لئے 49 پالیسی اقدامات کئے ہیں جبکہ 27 پر کام کیا جا رہا ہے۔ ہم نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ٟایف اے ٹی ایفٞ کے ممبران سے مختلف سطحوں پر مذاکرات کئے ہیں اور مختلف اقدامات پر عمل درآمد کے لئے اوقات کار میں رعایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟