16 نومبر 2018
تازہ ترین
 ایسا کھیل جو لیتا ہے لاکوں پرندوں کی جان

تائیوان میں ہر سال ایک متنازعہ اور دردناک کھیل منعقد ہوتا ہے جسے کبوتروں کی سمندری دوڑ کہا جاتا ہے۔ اس میں کبوتروں کو دور سمندر میں چھوڑا جاتا ہے اور شرطیں لگائی جاتی ہیں لیکن صرف ایک فیصد پرندے ہی گھر پہنچ پاتے ہیں اور باقی راستے میں مرجاتے ہیں۔ ہر سال کبوتروں کی بڑی تعداد کو بحری جہازوں میں بھر کر سمندر کی درمیان چھوڑا جاتا ہے لیکن ان کی اکثریت خشکی پر نہیں پہنچ پاتی ۔ تائیوان کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر یہ مقابلہ منعقد کیا جاتا ہے اور کم سے کم 5 لاکھ  کبوتروں کو سمندر سے اڑایا جاتا ہے۔ ان کبوتروں پر اربوں تائیوانی ڈالر کی رقم بطور جوا لگائی جاتی ہے۔ کبوتروں کو توانا بنانے کے لئے نشہ آور دوا بھی دی جاتی ہے۔ جانوروں کے حقوق کی بین الاقوامی تنظیم پی ٹا کے مطابق کبھی تو پرندے اس شدت سے گرتے ہیں کہ مردہ کبوتروں کی بارش کا گمان ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے سمندر کا ایک وسیع حصہ مردہ کبوتروں کا قبرستان بن جاتا ہے۔اس ریس پر لگی رقم جیتنے کے لیے کبوتر مالکان ہر ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ کبوتروں کو نشہ دینا، اچھے کبوتر چوری کرنا اور ان کے پاؤں میں چھلے کے نمبر بھی تبدیل کئے جاتے ہیں۔ تاہم اب تائیوانی پولیس متحرک ہوکر اس کبوتر کش کھیل کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔2015 میں جواریوں کے اڈوں پر چھاپہ مارک کر 36 لاکھ امریکی ڈالر ، کمپیوٹر اور پرندے ضبط کرکے 164 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم اب بھی چوری چھپے یہ کام جاری ہے جس پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟