25 ستمبر 2018
تازہ ترین
ایران پر دبائو بڑھانے کیلئے امریکی ایکشن ٹیم کا اعلان

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر اقتصادی اور سفارتی دبائو بڑھانے کے لیے ایک نئی اور اعلیٰ سطح کی ٹیم کا اعلان کیا ہے جس کا نام ایران ایکشن گروپ رکھا گیا ہے۔ایران ایکشن گروپ تہران کے رویے کو تبدیل کرنے اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے دیگر ممالک پر پابندیاں لگانے کے لیے واشنگٹن کی زیادہ سے زیادہ دبائو کی حکمت عملی پر کام کرے گا۔اس گروپ کی قیادت برائن ہْک ایران کے لیے محکمہ خارجہ کے خصوصی نمائندہ کے حیثیت سے کریں گے۔مائیک پومپیو کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ٴتقریباً 40 سال سے تہران کی حکومت امریکہ، ہمارے اتحادیوں، ہمارے شراکت دارو اور ایرانی عوام کے خلاف تشدد کو ہوا دینے اور غیرمستحکم کرنے والے رویے کی ذمہ دار ہے۔ ٘ فرا نسیسی خبر رسا ں  ادارے  کے مطابق مائیک پومپیو نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ بہت جلد ایک دن ہم ایران کے ساتھ نیا معاہدے کریں گے، لیکن ہم ایرانی حکومت کے رویے میں اندرونی اور بیرونی طور پر بڑی تبدیلیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔امریکہ جو تبدیلیاں ایران میں دیکھنا چاہتا ہے اس کی ایک طویل فہرست ہے جن میں شامی حکومت اور حزب اللہ کی حمایت بند کرنا، جوہری پروگرام کی بندش اور قید امریکیوں کی رہائی شامل ہے۔برائن ہک کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم ایرانی رویے کو تبدیل کرنے کے لیے مضبوط عالمی کوشش پر کاربند ہے۔ہم دنیا بھر میں ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی مطابقت چاہتے ہیں۔برائن ہک نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر ممالک کو ساتھ ملانے کے لیے کوشش بڑھا رہا ہے۔ اس اقتصادی دباؤ میں ایران کی تیل کی تجارت کا کریک ڈاؤن، فنانشل سیکٹر اور شپنگ کی صنعت شامل ہے۔ہمارا مقصد ہر ملک میں ایرانی تیل کی درآمد کو کم کر کے چار نومبر تک صفر پر لانا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟