14 نومبر 2018
تازہ ترین
 ایبولا وائرس کی نئی قسم دریافت

 افریقہ میں 10برس قبل ایبولا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد ماہرین نے اب خبردار کیا ہے کہ اس وائرس کی تبدیل شدہ شکل سیرا لیون کی چمگادڑوں میں دریافت ہوئی ، لیکن ماہرین نہیں جانتے کہ ایبولا کی یہ نئی قسم کتنی خطرناک ہے؟ اگرچہ ایبولا وائرس کی نئی قسم پر ابھی تحقیق کی ضرورت ہے لیکن اس سے ایبولا کے حملے اور پھیلائو کو سمجھنے میں بہت مدد ملے گی۔ قبل ازیں 2008 میں بنڈی بگیو ایبولا وائرس دریافت ہوا تھا جو اس نسل کا نیا وائرس بھی تھا اور کہا جاتا ہے کہ 2013 میں پھوٹنے والی وبا کی پشت پر بھی یہی وائرس تھا جس نے مغربی افریقہ میں 11 ہزار افراد کو ہلاک کیا تھا لیکن ان اموات میں 1976 کے زائر ایبولا وائرس کا بھی اہم کردار تھا۔ نیا وائرس پی آر ای ڈی آئی سی ٹی پروگرام پر کام کرنے والے سائنس دانوں نے دریافت کیا ، جس کے نگراں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس کے ماہرین ہیں اور وہ جانوروں سے انسانوں تک منتقل ہونے والے امراض اور وائرس پر تحقیق کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ماہرین نے ایبولا کی نئی قسم کو بومبالی وائرس قرار دیا ، جو کیڑے مکوڑے کھانے والی چمگادڑوں میں دریافت ہوا اور یہ چمگادڑ گھروں میں بھی رہتی ہے۔ ماہرین نے مسلسل تجربات کے بعد یہ بری خبر سنائی ہے کہ نیا وائرس چمگادڑوں سے انسانوں میں تو منتقل ہوسکتا ہے لیکن اب یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ انسانوں کو کس قدر نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف کولمبیا میں وائرسیات کے ماہر سائمن اینتھونی کہتے ہیں کہ نیا وائرس انسانی انفیکشن کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کرے گا، ایسے وائرس کا جینیاتی تجزیہ بھی انسانوں میں ان کے پھیلائو کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟