23 ستمبر 2018
تازہ ترین
 چیپل کی ٹاس ختم کرنے کی مخالفت

 آسٹریلیا کے سابق کپتان ای این چیپل نے بھی ٹیسٹ سے ٹاس ختم کرنے کی مخالفت کردی۔ ای این چیپل نے کہا کہ کرکٹ ایڈمنسٹریٹرز کے لئے سب سے اہم ٹاسک بیٹ اور گیند کے درمیان توازن کو برقرار رکھنا ہے اور وہ اس میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں، اب تیسرا فارمیٹ بھی اپنی جگہ بنا چکا ہے اور اس لئے ان تینوں طرز کے درمیان توازن بھی قائم رکھنے کی اشد ضرورت ہے، انہیں اپنے کھلاڑیوں کو تینوں فارمیٹس کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی سہولت فراہم کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گال ٹیسٹ میں سری لنکا کے ہاتھوں ناکامی کے بعد جنوبی افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ٹاس ختم کرنے کا مطالبہ کیا، ان کی اس بات میں دم تب ہوتا جب وہ 126 اور 73 رنز پر آئوٹ نہ ہوئے ہوتے، جب آپ اتنا برا کھیلتے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ پہلے بیٹنگ کریں یا بعد میں۔ اس وقت ہوم ٹیم کی جانب سے جس طرح کی وکٹیں تیار کی جاتی ہیں ان کا جواب ٹاس ختم کرنا نہیں ہے، اگر کوئی کپتان اس طرح کی شکایت کرتا ہے تو اس کو خود بھی اس بات پر توجہ دینا چاہئے کہ ان کے گرائونڈز میں کنڈیشنز متوازن ہوں، وہ ایک متوازن اٹیک منتخب کریں اور ایسے بیٹسمینوں کو میدان میں اتارا جائے جوکہ ہر قسم کی کنڈیشنز میں اچھا پرفارم کر سکتے اور ان کی تکنیک بہتر ہو۔ ای این چیپل نے کہا کہ اگر موجودہ دور کے کرکٹرز کو فرسٹ کلاس لیول پر اپنی صلاحیتوں کو چمکانے کی سہولیات میسر نہیں تو پھر ان کا ٹیسٹ لیول پر مختلف کنڈیشنز میں کامیاب ہونا بہت ہی مشکل ہوگا۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جس مقدار میں ٹوینٹی 20 کرکٹ کھیلی جارہی اور جس طرح تیزی سے مختصر ترین فارمیٹ کی لیگز سامنے آرہی ہیں، اس میں کھلاڑیوں کو فرسٹ کلاس لیول پر اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع میسر آ بھی سکے گا یا نہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟