15 نومبر 2018
اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق

حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس اے پی سی  میں شریک تمام سیاسی جماعتوں نے صدارتی الیکشن میں مشترکہ امیدوار لانے پر اتفاق کرلیا۔ کشمیر پوائنٹ مری میں نواز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس  اے پی سی  ہوئی، جس میں مسلم لیگ  ن، پیپلز پارٹی، ایم ایم اے اور اے این پی سمیت دیگر جماعتوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ اے پی سی میں شریک تمام جماعتوں بشمول پی پی پی نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق کرلیا ہے، پیپلز پارٹی کے وفد نے اپنی قیادت کو اعتماد میں لینے اور حتمی فیصلے کیلئے وقت مانگ لیا ہے، شہباز شریف کی جانب سے آج مشترکہ امیدوار کا اعلان کیا جائے گا۔ احسن اقبال نے بتایا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے اور دھمکیاں دی جارہی ہیں، انہیں جان و مال کے خطرات لاحق ہیں، اے این پی کے افتخار حسین کو بھی سنگین دھمکیاں دی گئی ہیں، اے این پی، جے یو آئی ، پختون خوا ملی عوامی پارٹی نے اپنے قائدین کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے، اے پی سی میں اس معاملے کی شدید مذمت کی گئی، ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اے پی سی نے اپوزیشن جماعتوں کے خلاف مقدمات اور انتقامی کارروائیوں کی مذمت کی، نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو قانونی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے، سابق وزیراعظم اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت انتقامی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ مسلم لیگ ٟ نٞ کے رہنما نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیرستان میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کی مذمت کی جس میں دو افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، اپوزیشن مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ رہنما ن لیگ نے کہا کہ اے پی سی نے سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹنگ کے حق کی حمایت کی ہے، تاہم جس عجلت میں الیکشن کمیشن اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ووٹنگ کے نظام کو متعارف کرا رہا ہے، اس پر سنگین تحفظات ہیں، آئی ٹی ماہرین نے اس نظام کے ہیک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، اس آن لائن نظام کی سیکورٹی پر شدید اعتراضات ہیں، ناقص آن لائن نظام نافذ کرنے سے ضمنی الیکشن کے عمل پر شدید سنگین سوالات اٹھیں گے۔ اے پی سی میں مسلم لیگ ٟ نٞ کے شہباز شریف، سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، احسن اقبال، پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر اور قمر زمان کائرہ، اے این پی کے غلام احمد بلور، نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو کے علاوہ پاک سرزمین پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے تاہم ٹیلی فونک رابطوں میں انہوں نے اے پی سی کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے موقف سے آگاہ کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ 4 ستمبر کو سینیٹ اور قومی  و صوبائی اسمبلیوں میں صدارتی انتخاب کے لئے پولنگ ہوگی۔ جس کے لئے پاکستان تحریک انصاف نے عارف علوی جب کہ پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کو امیدوار نامزد کیا ہے۔

 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟