25 ستمبر 2018
تازہ ترین
انسان کو سپر ہیومن بنانے والا مصنوعی ڈھانچہ

 سائنس دان انسانی جسم کی مناسبت سے مصنوعی اور مشینی بیرونی ڈھانچے کی تیاری میں مصروف ہیں جسے پہن کر تمام دن دوڑنے کے باوجود نہ تو تھکاوٹ کا احساس ہوگا اور نہ ہی جسم کے عضلات اور ہڈیوں پر کوئی بوجھ محسوس ہوگا۔ میا چیوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی بائیو میکاٹرونکس لیبارٹری میں تحقیق کار انسان کے ایسے بیرونی ڈھانچہ (Exoskeleton) کی تیاری میں مشغول ہیں جس سے انسانوں کو سپر ہیومن جیسی طاقت حاصل ہوجائے گی اور اسے مسلسل دوڑنے اور انتھک کام کرنے کے باوجود تھکن کا احساس تک نہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق ایک بیرونی ڈھانچہ نما آلہ ہے جس میں ہاتھ اور پائوں شامل ہیں اور ایک لباس کی طرح پہنا جاسکتا ہے اور الیکٹرانک موٹرز کی مدد سے تیار کردہ یہ فریم (لباس) ہاتھوں اور بازوئوں کی حرکت کو بے پناہ طاقت اور پائیداری فراہم کرتا ہے جس کی مدد سے بغیر تھکن کے مسلسل اور تیزی کے ساتھ دوڑا جاسکے گا۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی بھی وجہ سے انسانی جسم کے ناکارہ ہوجانے والے اعضا کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے بالخصوص فالج یا کسی حادثے میں حرکت کرنے سے محروم ہوجانے والے مریض اب اپنے پائوں پر کھڑے اور ہاتھوں سے معمولات زندگی کی انجام دہی کے لئے کارگر ثابت ہوسکیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کی تیاری کا خیال پی ایچ ڈی کے طالب علم ٹیلر کلٹس کی وجہ سے آیا جو جوڑوں کی سوزش کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اپنی صلاحیتیں کھونے لگے تھے۔ اس ٹیکنالوجی نے ان کی کھوئی صلاحیتوں کو بحال کرنے میں کافی مدد کی، جس کے بعد اس ٹیکنالوجی میں مزید پیشرفت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟