24 اگست 2019
تازہ ترین
انسانوں سے زیادہ پتلوں کی آبادی والا گائوں

انسانوں سے زیادہ پتلوں کی آبادی والا گائوں

مغربی جاپان میں پہاڑوں کے درمیان کے ایک چھوٹے سے گائوں نا گورو کی سنسنان گلی میں کوئی انسان تو نظر نہیں آتا، لیکن اس میں جابجا انسانی قد کاٹھ کے پتلے دیکھے جا سکتے ہیں جن سے یہ گلی مصروف دکھائی دیتی ہے۔ ناگورو جو جنوب مغربی ٹوکیو سے 550 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جسے پتلیوں یعنی گڑیوں کی وادی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جاپان کے دوسرے دیہات کی طرح اس گائوں میں بھی آبادی کی کمی ہے اور اس گائوں کی ایک خاتون سوکومی آیانو نامی نے یہ پتلے اس لئے بنائے ہیں کہ اس گائوں کے خالی اور اکیلے پن سے نمٹا جا سکے۔  ایک انٹرویو میں پتلے بنانے والی 79 سالہ سوکومی آیانو نے کہا کہ اس گائوں میں صرف 27 لوگ رہتے ہیں لیکن پتلے انسانوں سے دس گنا زیادہ ہیں، جن کی تعداد 270 ہیں۔ سوکومی آیانو نے پتلے بنانے کا آغاز 16 سال پہلے اس وقت کیا جب انہوں نے اپنے باغ کو پرندوں سے بچانے کے لئے اپنے والد کے لباس سے ایک انسان نما پتلا بنایا۔ انہوں نے کہا کہ  ایک ملازم نے جب اس پتلے کو دیکھا تو وہ سمجھا کہ یہ ان کے والد ہیں، اس نے میرے والد کو ہیلو کہا لیکن یہ ایک پتلا تھا۔ اس وقت سے سوکومی آیانو انسانی جسامت جتنے پتلے بنا رہی ہیں۔ یہ پتلے لکڑیوں سے بنائے جاتے ہیں اور ان میں اخباریں بھر ی جاتی ہیں۔ سوکومی آیانو ان پتلوں کے چہرے بنانے کے لئے پلاسٹک اور بالوں کے لئے اون استعمال کرتی ہیں۔ ان کو ایک انسانی جسامت جتنا پتلا بنانے کے لئے تین دن درکار ہوتے ہیں۔ ایک مقامی سکول میں سوکومی آیانو نے 12 مختلف رنگوں کے بچوں جیسے پتلے بھی رکھے ہیں اور ان کو ایسے بٹھایا ہیں جیسے کہ وہ کلاس روم میں بیٹھ کرپڑھ رہے ہوں۔ یہ سکول سات برس پہلے بند کیا گیا تھاکیونکہ اس گائوں میں نہ تو کوئی بچہ ہے اور نہ ہی کوئی استاد ہے۔ خاتون کے مطابق سب سے چھوٹے فرد کی عمر 55 برس ہے۔ اس گائوں کے ایک دکان میں کئی پتلے بٹھائے گئے ہیں جن کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایک خاندان ایک پورا خاندان بیٹھا ہے ،جبکہ ایک پتلا کسان جیسا دکھائی دیتا ہے۔ سوکومی آیانو کو یاد ہے کہ ان کے بچپن میں یہ اچھی خاصی جگہ ہوتی تھی اور یہاں 300 لوگ اور مزدور رہائش پذیر تھے جو جنگلات کے صنعت اور ڈیم بنانے کے کام سے جڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ آہستہ آہستہ یہاں سے چلے گئے ، اب یہ ایک تنہا علاقہ ہے، میں نے مزید پتلے بنائے کیونکہ مجھے یاد ہے جب یہ گائوں زندگی سے بھرپور تھا۔ ناگورو گائوں جیسی حالت پورے جاپان میں ہے ، دنیا کی تیسری بڑی یہ معیشت آبادی کی کمی، کم پیدائش اور لمبے عرصے تک زندہ رہنے جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ جاپان کی 28 فیصد لوگوں کی عمریں 65 برس اور اس سے زیادہ ہیں۔ جاپان ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ماہر اقتصادیات تکومی فوجی نامی کہتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے بعد جنگلات اور زراعت جاپان کی معیشت کے اہم حصے تھے تولوگ ناگورو جیسے گائوں میں رہتے تھے، لیکن 1960کی دہائی میں دیہاتوں کی نوجوان آبادی نے ٹوکیو کا رخ کیا ۔ان کے مطابق  اس وقت ٹوکیو کی معیشت اور صنعت ترقی کر رہی تھی جہاں لوگوں کے لئے روزگار کے بہتر مواقع موجود تھے۔ ماہر اقتصادیات تکومی کہتے ہیں کہ ہمیں ایسی کمیونیٹیز بنانے کی ضرورت ہے جہاں نوجوان طویل مدتی زندگی گزار سکیں۔ ناگورو گائوں میں اس کے اپنے رہائشیوں کی واپسی کے امکانات بہت کم ہیں، تاہم سوکومی آیانو کے پتلوں نے امریکہ اور فرانس میں بسے لوگوں کو کھینچا ہے۔ سوکومی آیانو کہتی ہیں کہ میرے پتلے بنانے سے پہلے یہاں لوگ نہیں رکتے تھے لیکن اب بہت سارے لوگ میرے گائوں کا سفر کرتے ہیں۔ سوکومی کو امید ہے کہ ناگورو ایک بار پھر زندگی سے بھرپور ہوگا اور بہت سارے لوگ یہاں سیاحت کی غرض سے آئیں گے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟