28 مئی 2020
تازہ ترین
  امید ہے  پانامہ  کیس کا فیصلہ عوام کے حق میں ہوگا ، سراج الحق

  امید ہے  پانامہ  کیس کا فیصلہ عوام کے حق میں ہوگا ، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ایوان میں کرپشن کے خاتمے کیلئے کوئی نظام نہیں بنااورحکمرانوں نے بھی کوئی روڈ میپ نہیں دیا ،اس لئے ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور امید ہے کہ پانا مہ کیس کا فیصلہ عوام کے حق میں ہوگا،اگر کرپش کے خاتمے کیلئے پانچ چھ ہزار لوگوں جیل بھیج دیا گیا تو یہ بڑی بات نہیں ہوگی،20کروڑلوگوں کیلئے اگرپانچ چھ ہزار لوگوں کی قربانی دینی پڑی تو یہ بڑی قربانی نہیں ہوگی اب پاکستان اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرک میں پی ٹی آئی کے رہنما اور سماجی و کاروبای شخصیت شبیرخان خٹک کے خاندان اور انکے 350ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کے لئے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میرا ایک ہی مطالبہ ہے کہ چور اور لٹیراچاہے اپوزیشن میں ہو یا حکومت میں سب کا احتساب ہواسی لئے میرے خلاف تقاریر ہورہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ اگر یہی میرا جرم ہے کہ میں احتساب چاہتا ہوں تو میں اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہوں اور ہرسزا  سہنے کیلئے تیارہوں اور جب تک ان لوگوں کو جیلوں تک نہیں پہناچایا جائے اپنے مہم کو جاری رکھونگا،انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے سے پہلے بہت کوشش کی کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے کوئی نظام وضع ہو ،حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ٹی او آرز بھی آئے لیکن نہ ایوان میں کوئی نظام آسکا اور نہ حکومت نے کوئی لائحہ عمل بنایا اور جب پانامہ کا سکینڈل آیا تب بھی حکومت ٹھس سے مس نہیں ہوئی تو صرف ایک ہی راستہ بچا کہ قانونی چارہ جوئی کی جائے،انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے ہم نے کرپشن کے خلاف تحریک کا آغاز بھی خیبرپختونخوا کے اسی ضلع کرک سے کیا تھا اور اسی تحریک کا نتیجہ ہے کہ ملک کے کونے کونے میں اب بچے بھی کرپشن کے خلاف اس تحریک کا حصہ بن چکے ہیں اب یہ تحریک انشائ اللہ احتساب پر ہی منتج ہوگی،انہوں نے کہا کہ اب چور لٹیروں کیلئے پناہ کی کوئی جگہ باقی نہیں اور چورلٹیرے چاہے کہیں بھی پہنچ جائیں انکا پیچھا کرینگے اور انکا پھرپور احتساب کرینگے ،سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میں ایسی جمہوریت سے پناہ مانگتا ہوں جس میں غریب کے بچے کیلئے سکول اور ہسپتال کا ایک بیڈ میسر نہ ہو ،انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی پالیسیوں سے معلوم ہورہا ہے کہ روس کی طرح بہت جلد امریکہ کے بھی ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ہیں کیونکہ امریکی نومنتخب صدر روز عالم اسلام کے خلاف ایک اعلان جنگ کرتے نظر آتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف امریکی صدر نے بات کی ہے تو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ ہیں جو ایک ارب مسلمانوں کی محبتوں کے مراکز ہیں اور ان مراکز کی طرف ابرھہ نے بھی بڑھنے کی کوشش کی تھی اور اللہ رب العالمین نے نیست و نابود کیاانہوں نے کہا کہ امریکی صدر ابرہہ بننے کی کوشش کررہا ہے اور لگتا ہے کہ گورباچوف کی طرح وہ امریکہ کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کردیگا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل اسلامی انقلاب میں مضمر ہے ،اسلامی انقلاب چور لٹیرے نہیں لاسکتے اسلامی انقلاب کا نسخہ جماعت اسلامی کے پاس ہے اور اب عوام اسلامی انقلاب کے استقبال کیلئے تیار ہیں ۔ 


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟