19 ستمبر 2018
امریکی صدر کے قریبی ساتھی کو قید کی سزا

امریکی عدالت نے صدارتی انتخاب میں روس کی مداخلت سے متعلق بیان سے شہرت حاصل کرنے والے ٹرمپ کے سابق ایڈوائزر جارج پاپا ڈو پولس کو 14 دن قید کی سزا سنا دی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کے دیرینہ ساتھی اور انتخابات کے وقت مشیر کے فرائض انجام دینے والے جارج پاپاڈولس کو ایف بی آئی سے غلط بیانی اور تحقیقاتی کمیٹی کو گمراہ کرنے کے الزام میں 14 دن قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سزا پوری کرنے کے بعد بھی انہیں 12 مہینے کڑی نگرانی میں گزارنے ہوں گے اور 2 سو گھنٹے کمیونٹی کی خدمات کے لیے صَرف کرنا ہوں گے جب کہ 9 ہزار 5 سو ڈالر کا جرمانہ اس کے علاوہ ہو گا۔ جارج پاپاڈولس ٹرمپ کے پہلے ساتھی تھے جن سے 2016 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کے لیے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ اُن پر الزام ہے کہ اس پوچھ گچھ کے دوران حقائق کو جان بوجھ کر چھپایا گیا۔ امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج پر روس کے اثر انداز ہونے پر اب تک صدر ٹرمپ کے 6 ساتھیوں کو سزا سنائی جا چکی ہے جس میں ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہن کو مالی بے ضابطگی، مائیکل فلین، رک گیٹس، الیکس وین، جارج پاپو ڈولس اور رچرڈ پائینڈو کو ایف بی آئی سے جھوٹ بولنے پر سزا بھگتنا پڑی ہے۔ علاوہ ازیں امریکی صدارتی انتخاب میں 13 روسی شہریوں اور 12 روسی افسران پر بھی مقدمات بنائے گئے ہیں۔

 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟