26 اپریل 2019
تازہ ترین
امریکہ، افغانستان میں جنگ کے خاتمے کیلئے امن معاہدے کا خواہشمند

امریکہ، افغانستان میں جنگ کے خاتمے کیلئے امن معاہدے کا خواہشمند

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان میں جولائی کے انتخابات سے قبل طالبان سے امن معاہدے کی کوشش کی جائے گی تاکہ طالبان بھی انتخابی عمل کا حصہ بن سکیں۔ واشنگٹن میں یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے خطاب میں زلمے خلیل زاد نے کہا کہ طالبان سے بات چیت بالکل ابتدائی مرحلے پر ہے اور ایک لمبے سفر کے آغاز کے ابھی دو تین قدم ہی اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان فوری جنگ بندی کے لئے تیار نہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح مطالبات منوانا مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لئے امن معاہدہ چاہتے ہیں، ہم اس سال کو افغانستان میں امن کا سال قرار دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی سہولت کاری کو سراہتے ہیں، تاہم امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان مزید کردار ادا کرے، پاکستان طالبان دھڑوں میں بات چیت کے حق میں ہے۔ انہوںنے بتایا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے کے بدلے میں پاکستان کو کچھ نہیں دیا گیا، تاہم افغانستان میں امن پاک امریکہ تعلقات بہتر کرنے میں معاون ہوگا اور افغانستان سے بہتر تعلقات اور خطے میں امن سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور مفاہمت کی جو کوششیں پاکستان نے کی ہیں، ان کی وجہ سے پاکستان اہم ملک کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ زلمے خلیل زاد نے افغان امن عمل میں روس کے مثبت کردار کا بھی خیر مقدم کیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان 17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے معاملے پر پیش رفت ہوئی تھی اور رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ مذاکرات کے دوران 18 ماہ کے اندر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا پر اتفاق کرلیا گیا، تاہم کسی بھی فریق کی جانب سے اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی تھی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟