22 ستمبر 2018
امریکا کا فلسطینی ہسپتالوں کیلئے امداد میں کٹوتی کا فیصلہ

امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس کے 6 ہسپتالوں کی ڈھائی کروڑ ڈالر کی امداد بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے کہا  ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کی روشنی میں فلسطینی ہسپتالوں کو فراہم کی جانے والی ڈھائی کروڑ ڈالر کی رقم اب اپنے قومی مفادات کے تحت خرچ کی جائے گی۔  رواں سال کے ابتدا میں ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کو دی جانے والی امریکی امداد پر نظرثانی کا اعلان کیا تھا ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ کے لئے اکنامک سپورٹ فنڈ کی مد میں دیئے جانے والے 200 ملین ڈالر پر بھی نظرثانی پر غور کر رہے ہیں۔    دوسری جانب فلسطین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہسپتالوں کی امداد کی کٹوتی فلسطین کے کاز کو نقصان پہنچانے کا حصہ ہے اور امریکی اقدام سے ہزاروں فلسطینیوں کی زندگیاں اور وہاں کام کرنے والے ملازمین کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے امداد کی کٹوتی بلاجواز، غیر انسانی اور اور غیر اخلاقی اقدام ہے جبکہ امریکا نے فلسطینیوں کے خلاف تمام حدیں عبور کرلی ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟